کراچی میں جاری ہولناک گرمی سے نجات کیلئے بارش کی دعائیں کی جاری ہیں،شریعت میں دعائے بارش کو استسقاء کہتے ہیں ، استسقاءکی تین صورتیں ہیں، صرف دعائے بارش کرنا، نوافل پڑھ کر دعاکرنا،باقاعدہ جنگل میں جاکرنماز باجماعت پڑھنا بعد نماز خطبہ اور بعد خطبہ دعا مانگنا،چادر الٹی کرنا یہ تینوں طریقے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں،یہ نماز تین دن تک پڑھی جائے۔
نماز استسقاء کی ابتدا
نماز استسقاء کی ابتدا رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہوئی۔ صحابہ کرام نے خشک سالی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز استسقاء ادا کی اور اللہ سے بارش کی دعا کی۔ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ سے رحمت، مغفرت اور بارش کی طلب کرنا ہوتا ہے۔
نماز استسقاء کا مکمل طریقہ کار
1. اعلان اور تیاری
- اعلان: امام یا مقامی علماء اعلان کرتے ہیں کہ نماز استسقاء پڑھائی جائے گی۔
- روزہ: لوگوں کو نماز استسقاء سے پہلے روزہ رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
2. نماز کی جگہ اور وقت
- جگہ: نماز استسقاء عموماً کھلے میدان (عیدگاہ) یا مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔
- وقت: نماز کا وقت کوئی مخصوص نہیں ہے، کسی بھی وقت ادا کی جا سکتی ہے جب لوگوں کو خشک سالی کا سامنا ہو۔
3. نیت
- نیت: نیت کریں کہ آپ نماز استسقاء پڑھ رہے ہیں۔
4. نماز کا طریقہ
- رکعتیں: نماز استسقاء دو رکعتیں ہوتی ہیں، جو عید کی نماز کی طرح ادا کی جاتی ہیں۔
- اذان اور اقامت: نماز استسقاء میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی۔
- تکبیرات: عید کی نماز کی طرح، پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قیام کے بعد پانچ تکبیریں کہی جاتی ہیں۔
- قرات: پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ غاشیہ پڑھنا مستحب ہے۔
5. خطبہ
- خطبہ: نماز کے بعد امام دو خطبے دے۔ خطبے میں اللہ کی بڑائی، استغفار اور بارش کی دعا کی تلقین کی جائے۔
- توبہ اور استغفار: لوگوں کو اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور توبہ کرنے کی ترغیب دی جائے۔
6. دعا
- دعا: خطبے کے بعد امام اور تمام نمازی اللہ سے بارش کی دعا کریں۔
- قبلہ کی تبدیلی: بعض روایات میں ہے کہ دعا کے دوران امام اور نمازی اپنے کپڑے الٹ کر پہن لیتے تھے اور قبلہ کی طرف منہ کرکے دعا کرتے تھے۔
تاریخی روایات
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز استسقاء دو رکعت بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی اور پھر خطبہ دیا اور اللہ سے بارش کی دعا کی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی نماز استسقاء ادا کی گئی تھی۔
تفصیلی دعائیں
نماز استسقاء کے بعد کی جانے والی دعائیں:
- اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا: “اے اللہ، ہمیں بارش عطا فرما، اے اللہ، ہمیں بارش عطا فرما۔”
- اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ: “اے اللہ، ہمیں وہ بارش عطا فرما جو فائدہ مند ہو، نقصان دہ نہ ہو، جلدی ہو اور دیر نہ ہو۔”
نتیجہ
نماز استسقاء ایک اہم سنت ہے جو مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی یاد دلاتی ہے اور انہیں ہر حالت میں اللہ سے مدد طلب کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی طرف رجوع کرنا، اپنی عاجزی کا اظہار کرنا اور اس کی مغفرت اور رحمت کی طلب کرنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








