پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں، طارق بگٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے 25کروڑ کے فنڈز رکھے جو پرو ہاکی لیگ کیلئے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے پاس تھے۔ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر 2سال تک پابندی لگانے کا فیصلہ بھی سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق نیوز کانفرنس کے دوران صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن طارق بگٹی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہاکی کیلئے 25کروڑ کے فنڈز مختص اور ریلیز کیے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ چیزیں مینیج کرنے میں ناکام رہا۔
نیوز کانفرنس کے دوران صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی ٹیم کے ساتھ بد انتظامی کے واقعے پر کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ ہے کہ ایک کمیٹی بنائیں۔ استعفیٰ دے کر جانا، یہ سزا کافی نہیں ہے۔ 30اکتوبر 2025 کو جنرل سیکریٹری نے شیڈول ان کے سامنے رکھا۔
طارق بگٹی نے کہا کہ میں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا ہے اور کپتان عماد بٹ پر 2 سال کی پابندی لگادی ہے، وہ اس عرصے میں ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کہیں نہیں کھیلیں گے
صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کہا کہ 6سال بعد ہماری پرو لیگ میں انٹری ہوئی۔ قصور پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نہیں، پاکستان سپورٹس بورڈ کا ہے۔ میں خود پاکستان سپورٹس بورڈ کے پاس گیا تھا کہ فنڈز دے دیں، مگر انہوں نے کہا کہ 2 ماہ لگیں گے۔ ارجنٹائن میں قومی ٹیم کیلئے ہوٹل انتظامیہ کو پیسے نہیں دئیے گئے۔
سربراہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کہا کہ ارجنٹائن سے واپسی کے 1 ماہ بعد ہمیں پیسے ملے۔ 28جنوری کو چیک ملا۔ 5فروری کو قومی ٹیم نے سفر کرنا تھا۔ محدود وسائل کے اندر ہم نے بہترین انتظامات کیے۔ بدانتظامی کی خبروں پر وزیراعظم کمیٹی بنائیں۔
اس حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے انکوائری مکمل کرلی اور 3 رکنی کمیٹی نے انکوائری رپورٹ تیار کرکے وزیر اعظم آفس بھیج دیا ہے۔
ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی رپورٹ میں کئی مالی معاملات کا ذکر ہے۔ انکوائری رپورٹ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو معاملے کا قصور وار قرار دے رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








