اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی پارلیمنٹ حملہ کیس میں استثنیٰ سے دستبردار ہوتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوگئے۔
2014 میں اس وقت کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران عارف علوی اور کئی دیگر افراد کے خلاف پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
صدر عارف علوی اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں جج محمد علی وڑائچ پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کر رہے تھے۔
سماعت کے دوران عارف علوی نے کہا کہ اسلام معافی کی اجازت نہیں دیتااس لئے وہ اپنے استثنیٰ سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے ۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے اسلامی تاریخ پڑھنے کی کوشش کی ہے جہاں غلطی پرمعافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، میں پاکستان کے آئین کا پابند ہوں اورقرآن پاک آئین سے بڑا قانون ہے۔
صدر عارف علوی نے کہا کہ آئین مجھے استثنیٰ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن تمام خلیفہ بڑے وقار کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے،میں بھی استثنیٰ نہیں لونگا۔