اسلام آباد: صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جس کا مقصد قومی اسمبلی کے چوتھے پارلیمانی سال کا باضابطہ آغاز ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئینِ پاکستان کی روایت کے تحت ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر صدرِ مملکت کو قومی اسمبلی و سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیرِ پارلیمانی امور بابر اعوان اور اسپیکر قومی اسمبلی کی ملاقات میں مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا کہنا ہے کہ اسپیکر اور مشیرِ پارلیمانی امور کی ملاقات میں وفاقی وزیر بین الصوبائی روابط ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر بھی موجود تھے۔ اس دوران چوتھے پارلیمانی سال کے کیلنڈر کا جائزہ لیا گیا۔ زیر التواء قوانین بھی زیر غور آئے۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے عوامی فلاح سے متعلق زیر التواء قوانین پیش کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تیسرے پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی کی کارکردگی قابلِ تعریف رہی جس کا سہرا مشترکہ طور پر اپوزیشن اور حکومت کے قانون سازوں کے سر ہے۔
مشیرِ پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ زیر التواء قوانین کنڈکٹ آف بزنس کے ضوابط کے بعد ایوان میں پیش ہوں گے جبکہ صحافتی تنظیموں نے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد اجلاس کے بائیکاٹ اور احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔
صحافتی تنظیموں نے اعلان کیا کہ میڈیا نمائندگان پر جسمانی حملوں، جبری برطرفی، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور پرنٹ و الیکٹرانک کے علاوہ سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کیلئے پی ایم ڈی اے کے قیام کی تجویز مسترد کرتے ہیں۔ احتجاجی ریلی 24 گھنٹے کے دھرنے میں تبدیل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں پی ٹی آئی اور ن لیگ آگے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








