امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر تازہ حملوں کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو سخت تنبیہ کی ہے کہ اگر وہ امن قائم نہ کرے تو آئندہ حملے اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات بشمول فورڈو، نطنز اور اصفہان پر کامیاب حملے کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے انتہائی کامیاب رہے اور دنیا نے سالوں تک ان ناموں کو سنا جب ایران اپنے تباہ کن جوہری منصوبے کو آگے بڑھا رہا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ “اب یا تو امن ہوگا یا ایران کے لیے وہ تباہی آئے گی جس کا ہم نے گزشتہ آٹھ دنوں میں مشاہدہ کیا۔
صدر نے مزید کہا کہ ابھی بھی کئی اہداف باقی ہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور اگر امن جلدی قائم نہ ہوا تو امریکہ ان اہداف پر تیز رفتاری اور مہارت کے ساتھ حملے کرے گا۔
ٹرمپ نے ایران کے سابق فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سلیمانی نے ہزاروں لوگوں کی جانیں لی ہیں اور امریکہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں جاری نہیں رہنے دیں گی۔
صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی اس کوشش میں تعاون پر مبارکباد دی اور کہا کہ دونوں ممالک نے مل کر اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ خطاب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نئی کہانی رقم کرتا نظر آ رہا ہے، جس میں واضح عزم اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








