پاکستان، سعودی عرب اور قطر پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباؤ؟ ٹرمپ بیان پر نئی بحث چھڑ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ معاہدے کے بعد پاکستان، سعودی عرب، قطر اور دیگر مسلم ممالک پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت پر زور دے دیا، جبکہ امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور اگر یہ پیچیدہ معاملہ حل ہو جاتا ہے تو خطے کے ممالک کو مشترکہ طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے چاہییں۔

ٹرمپ کے مطابق انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اماراتی صدر محمد بن زاید، قطری امیر شیخ تمیم، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترک صدر رجب طیب اردوان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے بادشاہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں بھی یہی تجویز دی۔

دوسری جانب امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران تنازع مذاکرات کے ذریعے ختم ہوتا ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور قطر سمیت مسلم ممالک کا ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونا مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا اہم ترین قدم ہوگا۔

گراہم نے خبردار کیا کہ اگر یہ ممالک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے تو مستقبل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور قطر کے سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل دیا اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دباؤ پر تنقید کی۔

Related Posts