اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فائر وال کے مبینہ ہٹانے کے معاملے پر بحث ہوئی تاہم پی ٹی اے نے ان خبروں کی سختی سے نفی کر دی ہے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن صادق میمن نے سوال اٹھایا کہ کیا فائر وال کو 5G اسپیکٹرم نیلامی سے قبل ہی ہٹا دیا گیا ہے جس پر سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام زارار ہاشم نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی فائر وال یا متعلقہ نظام ہٹایا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا ویب مینجمنٹ سسٹم پوری طرح فعال ہے اور انٹرنیٹ کی رفتار یا خدمات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا۔
پی ٹی اے کے چیئرمین نے بھی کمیٹی کو بتایا کہ جس نظام کو عام طور پر فائر وال کہا جاتا ہے وہ حقیقت میں پی ٹی اے کا ویب مینجمنٹ سسٹم ہے جو 2006 سے موجود ہے اور اب تک چار مرتبہ اپ گریڈ ہو چکا ہے جن میں سب سے تازہ 2023 کی اپ ڈیٹ ہے۔ اس سسٹم کا اہم مقصد گری ٹریفک کو کم کرنا اور ضرورت پڑنے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کرنا ہے۔
چیئرمین نے بتایا کہ حکومت کے احکامات پر پلیٹ فارم ایکس کو بھی اسی نظام کے تحت بلاک کیا گیا تھا اور اب تک سات مرتبہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حکومت یا عدالتوں کے حکم پر معطل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ نظام انٹرنیٹ سروس کی رفتار کو سست یا متاثر نہیں کرتا۔
اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل سرحدوں کے تحفظ کیلئے ایسے نظام کی موجودگی ضروری ہے اور ماضی میں بھارت کی طرف سے شروع ہونے والے سائبر حملے بھی اسی میکانزم کے ذریعے ناکام بنائے گئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








