جامعہ کراچی مشترکہ گروپس کمیٹی کے تحت وی سی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

تازہ ترین

تازہ ترین

جامعہ کراچی مشترکہ گروپس کمیٹی کے تحت وی سی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
جامعہ کراچی مشترکہ گروپس کمیٹی کے تحت وی سی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

 جامعہ کراچی کی مختلف تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم مشترکہ گروپس کمیٹی کے تحت جمعہ کو جدوجہد برائے حصولِ حقوقِ ملازمین کیلئے یوم یکجہتی برائے ملازمین منانے کیلئے وائس چانسلر آفس کے سامنے سبزہ زار پر ملازمین نے علامتی احتجاج کیا ۔

مشترکہ گروپس کمیٹی کے تحت ملازمین انتظامی عمارت کے سامنے سبزہ زار میں جمع ہوئے، عدالتی فیصلوں کو خوش آئند قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ اس کے بعد ملازمین کے جملہ مسائل حل ہو سکیں ۔

یہ بھی پڑھیں:

روسی قیادت نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔وزیرخارجہ

 ایمپلائز ویلفیر ایسوسی ایشن کے صدر فرحان خان اور آزاد گروپ کے چیئرمین سید وقار علی کے علاوہ انچارج مشترکہ گروپ کمیٹی اشفاق احمد نے احتجاج کیلئے آئے ہوئے ملازمین سے خطاب کے دوران کہا کہ نئی آنے والی انتظامیہ کے سامنے اپنے جائز اور قانونی مطالبات رکھنے میں بھرپور حصہ لینا ہو گا اس کیلئے تمام سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، نظریہ ضرورت اور نظریہ اتحاد کو یقینی بنائیں ۔

اس موقع پر مشترکہ گروپس کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ مطالبات میں سینڈیکیٹ ممبران پر مشتمل گریوینس رپورٹ پر عملدرآمد کرنا، 200 سے زائد ملازمین کے مستقبل کو مزید تباہ ہونے سے بچانا،  لیوو انکیشمنٹ برائے 2019 کی ادائیگی تحریری معاہدہ اور وعدہ کے عین مطابق کرانا اور منظوری کے باوجود اسکالر شپ کی ادائیگی جو تعطل کا شکار ہے اس کو جلد از جلد یقینی بنوانا ہے ۔

اس کے علارہ 25%ڈسپیرٹی الاؤنس کی ادائیگی کو یقینی بنانا، ٹائم پے اسکیل اور انسینٹیو اسکیم پر عملدرآمد کرانا، صوبائی حکومت کے حکم نامہ  کے مطابق گریڈ 16 کے کمپیوٹر آپریٹرز کو بغیر سلیکشن بورڈ گریڈ 17 دیا جائے کیونکہ حکم نامہ میں سلیکشن بورڈ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

جامعہ کراچی کے چیئرز، انسٹی ٹیوٹ کے کنٹریکٹ اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کیا جائے۔رمضان المبارک سے قبل ہی 2021کے لیووانکیشمنٹ کی منظوری دی جائے۔عدالت عالیہ کے فیصلوں اور حکم نامہ پر من و عن عمل کیا جائے اور جلد از جلد مستقل شیخ الجامعہ کا تقررمیرٹ اور شفافیت کے ساتھ روبہ عمل لایا جائے۔

جامعہ کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے اور معزز ممبران سینڈیکیٹ کی گریوینس رپورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے کیونکہ معزز سینڈیکیٹ ممبران کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنا بذات خود جامعہ کی خودمختاری ختم کرنے کے مترادف ہے۔

مشترکہ گروپس کمیٹی کا کہنا تھا کہ معزز اساتذہ کرام نے جامعہ کی خودمختاری کو محفوظ بنانے کیلئے 10روزہ ہڑتال کی جو کہ ایک تاریخ ہے، ہم اپیل کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور معزز اساتذہ کے مابین معاہدہ کو منظر عام پر لایا جائے ۔

Related Posts