جڑانوالہ میں مسیحیوں پر حملوں کیخلاف کراچی میں اقلیتوں کا احتجاج

تازہ ترین

تازہ ترین

فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں مشتعل ہجوم کی جانب سے مسیحی بستی میں برترین غنڈا گردی، مسیحیوں کے گھروں کو آگ لگانے اور چرچز کو جلانے کے سانحے کے خلاف کراچی میں اقلیتی برادری اور سول سوسائٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں مختلف اقلیتی کمیونیٹیز کے افراد کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور خواجہ سراؤں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے واقعے کی شدید مذمت کی اور مسیحی بستی اور چرچز پر حملوں اور عبادت گاہوں اور مذہبی نشانات کی توہین پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

فیصل آباد، جڑانوالہ میں مبینہ توہینِ مذہب پر مشتعل افراد نے گرجا گھر نذرِ آتش کردئیے

کراچی پریس کلب پر ہونے والے مظاہرے میں شریک خواجہ سرا رہنما شہزادی رائے نے کہا کہ ملک میں ملا گردی نے خواجہ سراؤں اور اقلیتوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، کیا پاکستان میں اقلیتوں اور خواجہ سراؤں کیلئے کوئی جائے امان نہیں ہے؟ کیا یہ صرف مسلمانوں کا ملک ہے اور یہاں صرف مسلمانوں کے ہی مذہب کی توہین جرم ہے؟

شہزادی رائے نے کہا کہ اگر یہ صرف مسلمانوں کا ملک ہے تو قومی جھنڈے سے سفید کلر ختم کرکے اعلان کر دیا جائے کہ یہاں اقلتیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں، تو وہ یہاں سے چلے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلاسفیمی صرف اسلام کی توہین ہی نہیں، بلکہ تمام ادیان اور مذاہب کی بے حرمتی بلاسفیمی ہے، جب تک آپ دوسروں کے ادیان کی عزت نہیں کریں گے دوسروں سے بھی احترام کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔

دیگر مظاہرین نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی اور حکومت اور انتظامیہ سے جڑانوالہ واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے پر تشدد رویوں اور واقعات کے خلاف نعرے بازی کی اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

Related Posts