پاکستان تحریکِ انصاف (یوکے) کے اکاؤنٹ سے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کار کو بم دھماکے سے اڑانے کی اشتعال انگیز ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس پر پاکستان نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی برطانیہ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے 23دسمبر کو انتہائی اشتعال انگیز ویڈیو جاری کی گئی۔ ویڈیو میں مظاہرین نے کھلے عام فیلڈ مارشل عاصم منیر کو قتل کی دھمکی دی۔ ایک خاتون نے اشتعال انگیز گفتگو کی اور کار کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی۔
خاتون نے کہا کہ کوئی بھی فیلڈ مارشل کو کار بم دھماکے میں قتل کردے گا۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولرز نے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز ویڈیو آگے پھیلایا اور آفیشل اکاؤنٹ سے شیئر کردیا۔ برطانیہ میں اس قسم کی دھمکی آمیز گفتگو عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
یہی نہیں بلکہ برطانیہ کا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2006 بھی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کو سنگین جرم قرار دیتا ہے۔ پاکستان نے اشتعال انگیز تقاریر میں برطانوی سرزمین کے غلط استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ ملوث افراد کی شناخت اور قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
برطانیہ کو خط
حکومتِ پاکستان کی جانب سے برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط میں برطانوی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی، تشدد اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ہوم آفس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس آرمی چیف کے قتل کا مطالبہ کرنے والی ویڈیوز کو پھیلا رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے خط میں کہا گیا کہ اس قسم کا مواد بیان بازی اور سیاست نہیں ہے، اور اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کی اعلیٰ فوجی شخصیت کے قتل پر اکساتا ہے۔ پی ٹی آئی سے منسلک پلیٹ فارمز مسلسل تشدد کی کالز دے رہے ہیں۔ برطانیہ قتل اور تشدد پر اکسانے والوں کی شناخت اور تحقیقات کرکے مقدمہ قائم کرے، فیصلہ کن کاررروائی کی جائے جس میں اس پر پابندی بھی شامل ہو۔
خط کے مطابق برطانیہ سے اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا کہ برطانوی سرزمین پاکستان کے خلاف بے امنی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کیلئے استعمال نہ ہو۔ برطانیہ کی خاموشی غیر جانبداری نہیں سمجھی جائے گی، جس کے باہمی اعتماد اور تعاون پر سنگین اثرات ہوں گے۔ پاکستان برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ معاملہ فوری قانونی طور پر نمٹایا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








