پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے پی ڈی ایم حکومت کی کارکردگی پر 51 صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کردیا۔

وائٹ پیپر میں اسرائیل کے ساتھ تجارت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، معاشی تباہی اور مہنگائی کے حوالے سے اعداد و شمار کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس پیپر کو چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

وائٹ پیپر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفیصلات درج ہیں اور کارکنوں کی گرفتاریاں، مقدمات، زمان پارک آپریشن کی تفصیلات بھی وائٹ پیپر کا حصہ ہیں۔

نیب قوانین میں تبدیلیاں اور الیکشن التواء کیس بھی 51 صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر کا حصہ ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشتگردی میں 53 فیصد اضافہ ہوا ہے، 2022 میں 376 دہشتگردی کے واقعات ہوئے، حکومت کی ترجیح دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

ملک و قوم کے مستقبل کے فیصلے کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا جائے،آصف زرداری

وائٹ پیپر میں کہا گیا کہ دہشتگردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی، دوسری جانب پی ٹی آئی کو ہی مورود الزام ٹھہراتے رہے، دنیا کی سیر کرنے والے وزیر خارجہ نے افغانستان کا ایک دورہ کرنے کی زحمت نہ کی۔

پی ٹی آئی نے وائٹ پیپر میں کہا کہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف پر جوہری پروگرام کے حوالے سے الزام لگایا، اسحاق ڈار پاکستان کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بنے۔

پیپر میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت نے جنیوا کانفرنس میں فنڈز ملنے کی خوشخبری سنائی، ان فنڈز کا حقائق سے دور دور تک تعلق نہ تھا، ڈونرز کانفرنس کے اعلانات بھی زیادہ تر قرضے تھے، حکومت کے پاس زہر کھانے کے پیسے نہ تھے اور وزیراعظم، وزیرخارجہ اور کابینہ کےدیگر ارکان سیر و تفریح کرتے رہے۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ بیرونی دوروں پر اربوں اڑا چکے ہیں، اس کے باجود پاکستان تنہائی کا شکار ہے۔ وزیراعظم اور وزیرخارجہ قلمدان سنبھالتے ہی ورلڈ ٹور پر نکل گئے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ وائٹ پیپر میں الزام لگایا گیا کہ جو عمران خان کو یہودی ایجنٹ کا طعنہ دیتے تھے، وہ آج اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مسئلہ کشمیر کو یکسر فراموش کردیا گیا ہے، امریکا کے حکم پر روس سے سستے تیل کا مجوزہ معاہدہ ختم کردیا گیا ہے، انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کردیا ہے۔

پیپر میں مزید کہا گیا کہ بیرونی دوروں پر بھیک مانگنے جانے والے وزیراعظم کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔

وائٹ پیپر میں مزید کہا گیا کہ حکومت نے90 روز میں الیکشن کے آئینی حکم سے انحراف کیا، پارلیمان میں غیرآئینی بل کی منظوری دی گئی، یہ بل عدلیہ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے تھا، آئین کی بالادستی یقینی بنانے کی پاداش میں صدر اس کرپٹ گروہ کا ہدف ہیں۔

Related Posts