سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) فیض حمید کو سنائی گئی 14سال قیدِ بامشقت کی سزا کو فوج کا اندرونی معاملہ قرار دے کر تبصرے سے انکار کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ پر مقدمہ چلائے جانے سے لے کر سزا اور دیگر کارروائیوں تک تمام تر معاملات فوجی ادارے کے داخلی ہیں، جن پر تحریکِ انصاف کوئی مؤقف نہیں رکھتی۔
اپنے حالیہ بیان میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ جنرل (ر) فیض حمید کو گرفتار کرنے کے وقت بھی تحریکِ انصاف سے ردِ عمل طلب کیا گیا، مگر یہ واضح کردیا گیا کہ فوج کا اپنا احتسابی نظام موجود ہے۔ بعض حلقے تحریکِ انصاف کو بھی فیض حمید سے جوڑنے میں مصروف ہیں۔
ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اس معاملے میں سیاسی عناصر کا تذکرہ کیا جارہا ہے، تاہم جنرل فیض حمید کے حوالے سے کوئی واضح نکتہ سامنے نہیں آیا۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے پہلے ہی یہ کہہ دیا کہ سزا یافتہ افسر کے سیاسی بے چینی اور عدم استحکام میں مبینہ کردار کو الگ سے دیکھا جائے گا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ جب تک کوئی سیاسی شخصیت واضح طور پر سامنے نہ آئے، اس وقت تک بیان بازی بلاجواز ہے۔ اگر آئندہ کسی سیاسی شخصیت کا براہِ راست حوالہ دیا گیا تو میں خود اس پر جواب دوں گا۔ فی الحال پارٹی اسے ایک ادارہ جاتی معاملہ سمجھتی ہے جس پر تبصرے نامناسب ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








