فلسطین کی حمایت پر سزا؟ محمد رضوان سے کپتانی واپس! راشد لطیف کا بڑا دعویٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی راشد لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد رضوان کو فلسطینی عوام کی حمایت کرنے کی وجہ سے کپتانی سے ہٹایا گیا۔

راشد لطیف نے اس فیصلے پر شدید ردعمل دیا اور اس کا ذمہ دار پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ رضوان کو فلسطین اور غزہ کی حمایت پر کپتانی سے ہٹایا گیا کیونکہ انہوں نے فلسطینی پرچم تھام کر اظہار یکجہتی کیا تھا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے شاہین شاہ آفریدی کو ون ڈے ٹیم کا نیا کپتان مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل کچھ عرصہ کے لیے محمد رضوان کو کپتان بنایا گیا تھا، لیکن اب ان سے یہ ذمہ داری واپس لے لی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں راشد لطیف نے کہا کہ کیا صرف اس لیے کپتانی چھین لی گئی کہ اُس نے فلسطین کا جھنڈا پکڑا؟ اب تو ایسا لگتا ہے کہ ایک غیر مسلم کپتان لانے کی کوشش ہو رہی ہے ایک مسلم ملک میں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مائیک ہیسن ٹیم میں موجود مذہبی ماحول اور روایات کے خلاف تھے، جو محمد رضوان کے دور میں پروان چڑھیں۔ ان کے مطابق، ہیسن نے صرف پانچ یا چھ افراد کے مشورے سے یہ فیصلہ کروایا۔

یاد رہے کہ محمد رضوان نے پی ایس ایل میں کھیلتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ ہر چھکے اور ہر وکٹ پر فلسطینی امداد کے لیے ایک لاکھ روپے عطیہ دیں گے۔

اسی طرح ورلڈ کپ 2023 میں سری لنکا کے خلاف جیت کو بھی انہوں نے فلسطینی عوام کے نام کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے رضوان کو ہٹانے کی کوئی باضابطہ وجہ اب تک نہیں بتائی۔

بس اتنا کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ انتخابی کمیٹی اور وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی میٹنگ کے بعد کیا گیا۔

Related Posts