پنجاب حکومت نے صوبے میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے بعد تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے نیوز کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش وفاقی حکومت کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس پر حملوں اور عوامی املاک کی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں 202 اہلکار زخمی ہوئے تاہم حکومت کسی مذہبی عقیدے یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹی ایل پی کو انتہا پسند تنظیم قرار دے کر اس کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔
اجلاس میں تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کو دہشت گردی کی دفعات کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کابینہ نے یہ فیصلہ 10 سے 13 اکتوبر کے درمیان ہونے والے ان پرتشدد مظاہروں کے بعد کیا، جب ٹی ایل پی کے کارکن لاہور، مریدکے اور اسلام آباد کی جانب مارچ کرتے ہوئے پولیس پر حملے کرتے رہے۔ ان جھڑپوں میں ایک ایس ایچ او شہید ہوا جبکہ 48 پولیس اور رینجرز اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے 17 کو گولیاں لگیں۔
پنجاب حکومت نے صوبے میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت 16 تا 18 اکتوبر تک کسی بھی قسم کے احتجاج، جلوس یا جلسے پر پابندی عائد رہے گی۔
اس کے علاوہ اسلحہ کی نمائش، لاوڈ اسپیکر کے استعمال (اذان اور جمعہ کے خطبے کے سوا) اور فرقہ وارانہ یا اشتعال انگیز مواد کی اشاعت پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی کی تمام جائیدادیں، دفاتر اور اشتہارات محکمہ اوقاف کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پارٹی کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ اقدام قومی ایکشن پلان کے تحت مذہبی انتہا پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تسلسل میں کیا جا رہا ہے۔
اگر وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دے دی تو تحریک لبیک پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت باضابطہ طور پر کالعدم قرار دیا جائے گاجس کے بعد پارٹی کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ ٹی ایل پی پر اس سے قبل بھی اپریل 2021 میں اسی نوعیت کی پابندی عائد کی گئی تھی جو بعد میں پی ٹی آئی حکومت اور تنظیم کے درمیان مذاکرات کے بعد ختم کر دی گئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی ایل پی پر دوبارہ پابندی عائد کرنا ایک اہم سیاسی فیصلہ ہے، کیونکہ یہ جماعت 2024 کے عام انتخابات میں 29 لاکھ ووٹ حاصل کر کے ملک کی چوتھی اور پنجاب کی تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ پابندی کے فیصلے سے کارکنان اور منتخب ارکان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس فیصلے کو مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے تاہم بعض سیاسی حلقے اسے مذہبی جذبات رکھنے والے عوامی طبقے کو محدود کرنے کی کوشش بھی کہہ رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








