پنجاب معصوم بچوں کیلئے جہنم بن گیا! قصور میں 4 سالہ بچی زیادتی کا شکار، نیم مردہ حالت میں روی نالے سے برآمد

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پنجاب کے ضلع قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں ایک انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں 4 سالہ معصوم بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر نیم مردہ حالت میں روہی نالے میں پھینک دیا۔

پولیس حکام نے بچی کو نیم بےہوش حالت میں نالے سے برآمد کیا اور اسے فوری طور پر پہلے قصور کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال اور پھر تشویشناک حالت میں لاہور جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ضروری آپریشن کیا جس کے بعد بچی کی حالت اب مستحکم اور خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

اسپتال انتظامیہ نے جنسی زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ بچی کا علاج جاری ہے اور گائناکالوجسٹس کی ٹیم اس کی نگرانی کر رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے بچی کے مکمل علاج و بحالی کے لیے ایک خصوصی میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دے دیا ہے۔

صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں کہ متاثرہ بچی کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے ڈی پی او قصور کو فوری طور پر ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کا حکم دیا۔

پولیس نے تھانہ مصطفیٰ آباد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو ملزم کی تلاش میں مصروف ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی جا رہی ہے، مساجد میں اعلانات کروائے جا رہے ہیں اور دیگر ذرائع سے بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ جلد سے جلد ملزم کو پکڑا جا سکے۔

مقامی انتظامیہ اور پولیس کے مطابق اب تک بچی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور اس کے والدین یا ورثا کی تلاش جاری ہے۔ لاوارث بچی کے حوالے سے اشتہارات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

یہ واقعہ پورے علاقے میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہوا ہے اور لوگ اس سفاک جرم کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

Related Posts