قاری صاحب روزانہ مارتے تھے اس لیے ایسا کیا! مدرسے کے طالب علموں کا خوفناک انتقام

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بھارتی میڈیا)

بھارتی ریاست اترپردیش کے باغپت ضلع کے گانگنولی گاؤں میں ایک دلخراش واقعہ نے پورے علاقے کو صدمے میں ڈال دیا جہاں ایک مسجد کے مولوی کی بیوی اور ان کی دو چھوٹی بچیوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا اور حیران کن طور پر اس جرم کے پیچھے دو کم عمر لڑکوں کا ہاتھ نکلا جوکہ مولوی کے شاگرد تھے اور اس سے ذاتی رنجش رکھتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق مولوی ابراہیم جو گاؤں کی مسجد میں امامت کرتے تھے نے حال ہی میں اپنے دو طالب علموں کو کسی بات پر ڈانٹ ڈپٹ کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا پر انہوں نے ناراض ہو کر بدلہ لینے کا منصوبہ بنایا۔

ملزمان جمعرات کی رات وہ چپکے سے مسجد کے اوپر والے کمرے میں داخل ہوئے جہاں مولوی کی 30 سالہ بیوی اسرانہ اور ان کی دو بیٹیاں، 5 سالہ صوفیہ اور ڈھائی سالہ سمیہ سو رہی تھیں۔ دونوں لڑکوں نے چھری اور ہتھوڑے سے حملہ کر کے تینوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور پھر وہاں سے بھاگ نکلے۔

پولیس نے فوری طور پر تحقیقات شروع کیں اور سات خصوصی ٹیموں کو ذمہ داری سونپی سی سی ٹی وی فلموں، فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد کی مدد سے صرف چھ گھنٹوں میں دونوں ملزم لڑکوں کو پکڑ لیا گیا۔

پولیس نے ان کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار یعنی چھری اور ہتھوڑا بھی برآمد کر لیے۔پوچھ گچھ میں لڑکوں نے اعتراف کیا کہ وہ مولوی کی سختی اور بار بار کی سزا سے تنگ آ چکے تھے اور اسی غصے میں انہوں نے یہ خوفناک قدم اٹھایا۔

پولیس حکام کے مطابق مولوی کے خاندان کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور چونکہ ملزم کم عمر ہیں اس لیے انہیں جووینائل ہوم بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یہ واقعہ پورے علاقے میں جھٹکے کی لہر بن کر پھیل گیا ہے اور لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ کم عمر بچوں نے اتنا سنگین جرم کیسے کر لیا۔ یہ معاملہ معاشرے میں رنجش اور بدلے کی نفسیات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

Related Posts