راولپنڈی :شکرگڑھ میں مذہبی جماعت کے قاری کی 13 سالہ بچے سے بدفعلی، ملزم کی مقدمہ درج کرانے پر دھمکیاں، متاثرہ بچے کے والد نے اعلیٰ حکام سے مدد مانگ لی۔
ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کے علاقے منظور پورہ پلاٹ کے رہائشی عرفان خان نے بتایا کہ میں محنت مزدوری کرتا ہوں ۔ میرا بیٹا نعمان جس کی عمر 13 سال ہے اور وہ مدرسہ دارالعلوم غوثیہ رضویہ موضع دودھےمیں قرآن پاک حفظ کر رہا ہے ۔
سائل نے بتایا کہ آج جب میرا بیٹا نعمان گھر آیا تو وہ مجھے پریشان دکھائی دیا تو میں نے اپنے بیٹے نعمان سے پوچھا کہ تم کیوں پریشان ہو تو میرے بیٹے نے بتایا کہ تقریباً رات 9 بجے نماز عشاء کے بعد قاری شاہد رفیق مجھے اپنے کمرے میں لے گئے اور میرے ساتھ بدفعلی کر ڈالی ۔
عرفان خان کا کہنا ہے کہ بد فعلی کے بعد میرے بیٹے کو جان بوجھ کر قاری شاہد رفیق نے تین دن تک گھر نہیں آنے دیا ،میرا بیٹا انتہائی تکلیف میں رہا ۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے جب تھانے میں مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست دی تو پولیس نے پہلے میرے بیٹے کا میڈیکل کرایا میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ملزم قاری شاہد رفیق کے خلاف زیر دفعہ 377 کے تحت تھانہ نورکوٹ میں مقدمہ درج کرلیا ہے ۔
ملزم شاہد رفیق کا تعلق ایک مذہبی جماعت سے ہے اور ملزم کی مذہبی جماعت کی طرف سے بھرپور کوشش پناہی کی جارہی ہے ،میں غریب مزدور ہوں ،ملزم مجھے ڈرا دھمکا کر رہا ہے ،ابھی تک پولیس نے ملزم کو گرفتار نہیں کیا۔
عرفان خان کا کہنا ہے کہ میں آئی جی پنجاب پولیس اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے بیٹے کے ساتھ بدفعلی کرنیوالے ملزم کو قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور مجھے انصاف اور تحفظ دیا جائے ۔