قائدِ اعظم کی تاریخ ساز شخصیت اور قیامِ پاکستان کی بنیاد بننے والا دو قومی نظریہ

تازہ ترین

تازہ ترین

قائدِ اعظم کی تاریخ ساز شخصیت اور قیامِ پاکستان کی بنیاد بننے والا دو قومی نظریہ
قائدِ اعظم کی تاریخ ساز شخصیت اور قیامِ پاکستان کی بنیاد بننے والا دو قومی نظریہ

بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تاریخ ساز شخصیت نے دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر مملکتِ خداداد پاکستان کے قیام کے خواب کو تعبیر دی جس کے بعد آزادی جیسی عظیم نعمت سے آج تک  کروڑوں انسان فیضیاب ہو رہے ہیں۔

یہ وہ آزادی ہے جس کا خواب شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے دیکھا اور قائدِ اعظم محمد علی جناح نے انگریز سامراج اور ہندو اکثریت سے لڑ کر اسے حاصل کیا اور حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ حصولِ پاکستان کے دوران 1 بار بھی قانون نہیں توڑا گیا جبکہ آج 25 دسمبر کے روز پاکستان بھر میں یومِ قائدِ اعظم بھرپور ملی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے۔ 

آئیے وکالت کے معزز پیشے سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک قائدِ اعظم محمد علی جناح کی جادو اثر شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا نمایاں خصوصیات تھیں جن کے بل بوتے پر پاکستان جیسے عظیم ترین خواب کو تعبیر دینا ممکن ہوسکا۔

قائدِ اعظم کی زندگی

سن 1876ء میں 25 دسمبر کے روز قائدِ اعظم محمد علی جناح کراچی میں پیدا ہوئے جس کا نام آگے چل کر شہرِ قائد پڑ گیا۔ ابتدائی تعلیم 1882ء میں شروع کی اور پھر 1893ء میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے انگلینڈ چلے گئے۔

تین سال بعد یعنی 1896ء میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد  وکالت کے پیشے کو اپنایا اور برصغیر آ کر باضابطہ طور پر پریکٹس کرنے لگے۔

سیاسی میدان میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی 1906ء سے شروع ہوتی ہے جب آپ انڈین نیشنل کانگریس کا حصہ بنے تاہم دو قومی نظرئیے کو سمجھنے کے بعد آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کا حصہ بننا پسند کیا۔

یہی وہ دور ہے جب قائدِ اعظم محمد علی جناح نے 14 نکات پیش کرکے سیاسی سطح پر مسلمانوں کے عظیم رہنما ہونے کا ثبوت دیا اور آگے چل کر برصغیر کے مسلمان آپ کو قائدِ اعظم کے لقب سے یاد کرنے لگے۔

بانئ پاکستان کے اقوال 

ایک عظیم رہنما جب اپنی قوم سے خطاب کر رہا ہوتا ہے تو قوم کو سمجھانے کیلئے وہ بعض اوقات ایسی بات کہہ جاتا ہے کہ رہتی دنیا تک اس کے قول سنہرے الفاظ سے لکھ لیے جاتے ہیں اور قوم کی ہر نئی نسل اسے یاد کرکے عظیم رہنما کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

اسلام کے اصول واضح کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے فرمایا کہ وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہو کر مسلمان جسدِ واحد کی طرح مضبوط ہوجاتے ہیں؟ وہ کون سی چٹان ہے جس پر قوم کی بنیاد رکھی گئی ہے؟ وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کردی گئی؟ یہ رشتہ، چٹان، اور لنگر کتابِ الٰہی قرآنِ مجید ہے۔ 

محمد علی جناح کوئی عام رہنما نہیں تھے، اس لیے ان کے ایسے اقوال بے شمار ہیں جنہیں یاد کیا جاتا ہے، مثلاً قائدِ اعظم نے فرمایا تھا کہ اتحاد، یقین اور نظم و ضبط جیسی بنیادی خوبیاں پاکستان کو دنیا کی پانچویں بڑی طاقت بنائے رکھنے میں معاون ثابت ہوں گی بلکہ ہم دنیا کی کسی بھی قوم کے مقابلے میں ایک بہتر قوم بن سکتے ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی جبکہ ہم سب پاکستانی ہیں، کوئی بھی سندھی، بلوچی، بنگالی، پٹھان یا پنجابی نہیں۔ آپ کو صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرنا ہوگا۔

انصاف اور مساوات کو اپنے رہنما اصول قرار دیتے ہوئے قائدِ اعظم نے فرمایا کہ مجھے یقین ہے کہ قوم کی حمایت اور تعاون سے ہم پاکستان کو دنیا کی عظیم ترین قوم بنا سکیں گے۔

ترقی کا اصول سمجھاتے ہوئے قائدِ اعظم نے کہا کہ دنیا کی کوئی قوم تب تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کے مردوں کے شانہ بشانہ خواتین بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیتی ہوں۔ وہ لوگ انسانیت کے مجرم ہیں جو خواتین کو چاردیواری میں بند کردیتے ہیں۔

عوام کو جمہوریت کے نظام میں ان کے حقوق سمجھاتے ہوئے قائدِ اعظم نے فرمایا کہ عوام کا اختیار یہ ہے کہ وہ کسی بھی حکومت کو اختیارات دے سکتے ہیں یا برطرف کرسکتے ہیں لیکن یہ کرنے کیلئے نظام کو سمجھنا ضروری ہے۔

اسلام کے نفاذ کا وعدہ 

شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کا وعدہ قیامِ پاکستان کے اہم محرکات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ 10 ستمبر 1945ء کے روز قائدِ اعظم نے کہا کہ ہمارا پروگرام قرآنِ مجید میں ہے، مسلمانوں کو چاہئے کہ غور سے قرآنِ پاک پڑھیں۔ مسلم لیگ قرآنی پروگرام کے علاوہ کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کرے گی۔

قیامِ پاکستان کے بعد 2 جنوری 1948ء کے روز بھی قائدِ اعظم نے یہی فرمایا کہ اسلامی حکومت میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کی تعمیل قرآنی احکامات اور اصولوں کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔

قرآنی احکامات کو سیاسی و معاشرتی بنیاد قرار دیتے ہوئے قائدِ اعظم نے کہا کہ اسلام میں کسی بادشاہ یا پارلیمان کی اطاعت نہیں بلکہ قرآنِ پاک کے احکامات آزادی و قیود کی حدیں مقرر کرتے ہیں۔ اسلامی حکومت قرآنی احکامات اور اصولوں کی حکومت ہے۔ 

موجودہ دور کا بھارت اور قائدِ اعظم کی یاد

رواں برس قائدِ اعظم محمد علی جناح کو یومِ وفات 11 ستمبر اور آج 25 دسمبر کے علاوہ بھی اس وقت بہت یاد کیا گیا جب بھارت میں مسلم کش فسادات رونما ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے موقعے پر دہلی میں فسادات ہوئے جس کا مقصد نئے کالے قانون پر ملک گیر احتجاج کو دبانا تھا۔ فسادات کے دوران 42 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے اکثر مسلمان تھے۔

درجنوں گھر مکمل طور پر جلا دئیے گئے، مسلم آبادیوں میں ایمبولینسز تک کو داخلے سے روک دیا گیا، دہلی کے فسادات کے بعد زخمیوں اور قتل کیے گئے افراد پر پستولوں سے گولیاں چلانے اور تلواروں سے حملے کا انکشاف ہوا۔

غور کیجئے تو پاکستان کے قیام کے بعد جب 1947ء میں مہاجرین نئی اسلامی مملکت کا رخ کر رہے تھے تو سکھوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں پر ایسی ہی قیامت ڈھا کر دو قومی نظرئیے کو سچ ثابت کیا تھا۔

آج بھی بھارت میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمانوں، سکھوں اور مسیحیوں سمیت کوئی بھی اقلیت شدت پسند ہندوؤں کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔ آج بھارت کے مسلمان یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ 1947ء کے دوران پاکستان نہ جا کر انہوں نے بہت بڑی غلطی کی تھی جس کی سزا اقلیتیں آج تک بھگتنے پر مجبور ہیں۔

قیامِ پاکستان کے 1 سال بعد یعنی 11 ستمبر 1948ء کے روز قائدِ اعظم محمد علی جناح وفات پا گئے اور مسلم قوانین کے نفاذ کا وعدہ تشنۂ تکمیل رہا تاہم آج بھی قائدِ اعظم کے فرمودات ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ ایک عظیم رہنما کو کیسا ہونا چاہئے جبکہ مسلمانوں کےعلیحدہ تشخص کی سب سے بڑی دلیل بننے والا 2 قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ 

Related Posts