ریڈیو ملازمین کا جبری برطرفیوں کیخلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج

تازہ ترین

تازہ ترین

Radio employees protest in front of Parliament House against forced dismissals

اسلام آباد: جبری برطرفیوں کے خلاف ریڈیو ملازمین کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں احتجاج ، بحالی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

1200ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک ماہ اور پانچ دن ہو چکے ہیں ،ہمیں ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ ایم ایم نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ریڈیو ملازمین کا کہنا تھا کہ ہمارے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، ہم نے ہر موقع پر اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سر انجام دی ہے لیکن ہمارے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے ۔

مذاکرات کے نام پر بھی ہمیں لولی پوپ دیا جارہا ہے، ہمیں نوکری سے جبری برطرف کیا گیا ہے، ڈی جی ریڈیو اور چند افسران ریڈیو کو تباہی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں، من پسند لوگوں کو نوازنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے تو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن صرف 1200 کنٹریکٹ ملازمین خزانے پر بوجھ بن رہے ہیں، ہمارے کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بہت ہی معمولی ہیں۔

بڑی تنخواہ لینے والے ابھی بھی گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں لیکن ہمارے بچوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے ، مظاہرین کا کہنا ہے کہ شبلی فراز نے بھی ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ۔

مذاکرات کے نام پر ہمیں ذلیل اور رسوا کیا گیا ،آج پھر ہمیں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی میٹنگ میں فیصلہ کرنے جا رہے ہیں اور تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے لیکن ہمیں پتا ہے کہ اس کا کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد میں جیولر شاپ پر ڈکیتی، ملزمان400تولہ سونا ،40 لاکھ کیش لے اڑے

ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں فوراً بحال کیا جائے، ہم کسی بھی صورت میں اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، ہم اپنا حق لے کر رہیں گے ہمارے بقایاجات بھی نہیں ادا کیے گئے اب ہم فائنل راؤنڈ کھیلنے جا رہے ہیں۔

اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو پھر ہم ڈی چوک سے پارلیمنٹ سے ہوتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس کے باہر مارچ کا اعلان کرتے ہیں اور تا دم مرگ وہیں رہیں گے جب تک جبری برطرف ملازمین کو بحال نہیں کیا جاتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

Related Posts