رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے جس کے آتے ہی جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں اور اسی رمضان کے مہینے میں شب قدر وہ بابرکت رات ہے جسے اس ماہِ مبارک کی آخری طاق راتوں میں تلاش کیا جاتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند کے بے شمار مسلمان آج بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ستائیسویں شب ہی شب قدر ہے، جس کا ثبوت احادیث مبارکہ سے یا قرآنِ پاک سے تو نہیں ملتا، تاہم کچھ علمائے کرام اور بزرگانِ دین نے ستائیسویں شب کے شب قدر ہونے کے متعلق دلائل ضرور دئیے ہیں۔
تاہم اگر دینی کتب کا جائزہ لیا جائے تو ایسی بے شمار حکایات بھی ملتی ہیں جب ستائیسویں شب کے علاوہ اکیسویں، تئیسویں یا پچیسویں یا پھر انتیسویں شب میں بھی شب قدر پائی گئی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث مبارکہ میں شب قدر کو طاق راتوں میں تلاش کرنے کا عمل بے مقصد نہیں بتایا گیا، بلکہ اس کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے۔
شیخ ابوالحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ جب کبھی اتوار یا بُدھ کو پہلا روزہ ہوا تَو اُنتیسویں شب ، اگرپیر کا پہلا روزہ ہو ا تو اکیسویں شب، اگر پہلا روزہ منگل یاجمعہ کو ہوا تو ستائیسویں شب اگر پہلا روزہ جمعرات کو ہوا تو پچیسویں شب اور اگر پہلاروزہ ہفتے کو ہوا تو میں نے تئیسویں شب میں شَبِ قَدْر کوپایا۔
اسی طرح دیگر بہت سے علمائے کرام ستائیسویں شب کے ہی شب قدر ہونے کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ درست ہوسکتے ہیں اور ایسے ہی بزرگوں میں سے ایک نام شاہ عبد العزیز محدّث دِہلوی کا بھی ہے جو فرماتے ہیں کہ شب قدر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہوتی ہے اور اس کی دلیل بھی دیتے ہیں۔
آپ نے دلیل دی ہے کہ لَیْلَۃُ الْقَدْر‘ ‘ میں نو حروف ہیں اور یہ کلمہ سُوْرَۃُ الْقَدْر میں تین مرتبہ ہے، اِس طرح ’’ تین ‘‘ کو ’’ نو ‘‘ سے ضرب دینے سے حاصلِ ضرب ’’ ستائیس ‘‘ آتا ہے جو کہ اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شبِ قدر ستائیسویں رات ہے، حالانکہ بہت سے دیگر علمائے کرام نے اس سے اختلاف بھی کیا۔
آج 26رمضان المبارک اور مغرب کے بعد ستائیسویں شب کی آمد آمد ہے اور اس موقعے پر ملک بھر کی مساجد میں ختم القرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے پیچھے بھی یہی منطق کارفرما ہے کہ زیادہ تر علمائے کرام 27ویں شب کو ہی شب قدر سمجھتے اور اسی کے اعتبار سے عبادات کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








