حکومت پاکستان نے پولیس سروس میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے 3 سینئر افسران کی تعیناتی اور تبادلے کیے ہیں تاکہ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور انتظامی امور کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔
ڈاکٹر عثمان انور جو کہ بی ایس-21 گریڈ کے افسر ہیں اور گزشتہ تین سال سے پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کا نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
ان کی یہ تعیناتی وفاقی حکومت کی منظوری سے فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر عثمان انور پہلے بھی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی میں کام کر چکے ہیں اور لاہور میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی نئی تعیناتی پنجاب پولیس کی قیادت میں تبدیلی کا باعث بنی ہے۔
راؤ عبدالکریم کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا ہے۔ یہ تعیناتی سول سروسز ایکٹ 1973 کی دفعہ 10 کے تحت فوری اثر کے ساتھ کی گئی ہے۔راؤ عبدالکریم کا تعلق 24 ویں کامن سے ہے، وہ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ تعینات تھے۔
رفیق مختار کو جو اب تک ایف ائی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے فرائض سر انجام دے رہے تھے فوری طور پر اسٹبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ تبادلہ بھی فوری طور پر نافذ العمل ہے اور مزید احکامات تک جاری رہے گا۔
تمام تبدیلیاں اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشنز کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہیں جن پر ڈپٹی سیکریٹری محمود الحسن اور سیکشن افسر سلمہ عزیز نے دستخط کیے ہیں۔ نوٹیفیکیشن کی کاپیاں متعلقہ حکومتی اداروں اور محکموں کو بھیجی گئی ہیں تاکہ ان کی فوری تعمیل ممکن ہو سکے۔
یہ تبادلے پاکستان کی پولیس سروس میں ایک اہم قدم ہیں جو وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان افسران کی مؤثر نقل و حرکت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عثمان انور کی ای آئی اے میں تعیناتی سے وفاقی تحقیقات اور سائبر کرائم کے شعبے میں نئی توانائی آ سکتی ہے جبکہ پنجاب پولیس کو نئی قیادت کے تحت انتظامی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ یہ فیصلے اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیے گئے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس فورس کی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








