راولپنڈی پولیس نے انوکھی کارروائی کرتے ہوئے 4 سال کے بچے پر 10 سال کی سزا دینے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم پولیس نے واقعے کی تردید کردی۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس نے تھانہ نصیر آباد میں 4 سالہ کمسن بچے پر 337 اے 3 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ 4سالہ بچے نے میاں بیوی پر اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کیا تھا۔
اختیارات کے ناجائز استعمال پر 3 پولیس افسران برطرف
نصیر آباد پولیس نے 4سالہ کمسن بچے پر مقدمہ شہری غلام مصطفیٰ کی مدعیت میں درج کیا۔ بعد ازاں کمسن ملزم احمد کو ضمانت کیلئے ایڈیشنل سیشن جج سہیل انجم کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
کمسن ملزم کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تھانہ نصیر آباد پولیس نے آنکھیں بند کرکے مقدمہ درج کیا۔ بچے پرجو دفعہ لگائی گئی، اس کی سزا 10 سال ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج پر ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
عدالت کا اظہارِ برہمی
مقامی عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ الزامات فوری ڈسچارج کریں۔ خاتون وکیل نے بچے کو کندھے پر اٹھا کر بطور ملزم عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کیا تھا۔
معزز جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ایف آئی آر درج کرتے وقت دیکھ تو لیتی کہ بچہ اینٹ اٹھا بھی سکتا ہے کہ نہیں؟ جج سہیل انجم نے بچے کو الزامات سے بری کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔ وکلاء نے پولیس کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
پولیس کی تردید
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ نجی ٹی وی چینلز پر تھانہ نصیر آباد میں 4 سالہ بچے پر مقدمہ درج ہونے کی خبر حقائق کے خلاف ہے۔ راولپنڈی پولیس میرٹ پر یقین رکھتی اور خبر کی تردید کرتی ہے۔
نجی ٹی وی چینلز پر تھانہ نصیر آباد میں 04 سالہ بچہ پر مقدمہ درج ہونے کے حوالے سے خبر کا معاملہ۔
مذکورہ خبر حقائق کے برخلاف ہے جس کی راولپنڈی پولیس تردید کرتی ہے۔ راولپنڈی پولیس میرٹ پر یقین رکھتی ہے اور میرٹ پر عملدرآمدکو یقینی بنایا جائے گا۔ pic.twitter.com/LAo7eU995B
— Rawalpindi Police (@RwpPolice) October 19, 2022
ٹوئٹر پیغام میں ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ پر مقدمے کا کراس ورژن مصطفیٰ کی درخواست پر قائم کیا گیا جس میں درخواست گزار نے عبدالسلام، محمد ولی اور احمد کے نام لکھوائے۔
پیغام میں راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ جس بچے کو ضمانت کیلئے عدالت میں پیش کیا گیا، اس کا نام سعید احمد ہے۔ کراس ورژن جولائی میں قائم ہوا تھا جس میں پولیس نے نہ تو بچے کو شاملِ تفتیش کیا، نہ ہی بچہ مطلوب ہے۔خبر کی تردید کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








