ملک بھر میں عوامی صحت تباہ حالی کا شکار ہے جبکہ پاکستان میں 2025 کے دوران ڈاکٹروں کے ملک چھوڑنے کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جس سے طبی گریجویٹس کی مسلسل تیاری کے باوجود صحت کے نظام پر طویل المدتی دباؤ کے خدشات میں اضافہ ہوا۔
گیلپ پاکستان کی جانب سے بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 3 ہزار 800 سے 4 ہزار ڈاکٹروں نے ملک چھوڑا، جو اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔ یہ تیز رفتار اضافہ گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، ماضی میں ہر سال ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک روانگی کی تعداد چند سو تک محدود رہتی تھی۔
اگرچہ پاکستان ہر سال تقریباً 22 ہزار نئے ڈاکٹر تیار کرتا ہے اور ملک میں رجسٹرڈ میڈیکل پروفیشنلز کی تعداد لگ بھگ 3 لاکھ 70 ہزار ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار عملی صلاحیت کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ متعدد رجسٹرڈ ڈاکٹر یا تو بے روزگار ہیں، کلینیکل پریکٹس سے وابستہ نہیں، یا پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم ہیں۔
تقریباً 25 کروڑ آبادی والے پاکستان کو عالمی ادارۂ صحت کے کم از کم معیار کے مطابق کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار فعال ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ اگرچہ کاغذی طور پر ملک یہ ہدف پورا کرتا دکھائی دیتا ہے، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی ہجرت زمینی سطح پر دستیابی کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔
گیلپ کے مطابق ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک نقل مکانی میں تیزی کا آغاز 2010 کے بعد ہوا اور یہ رجحان بتدریج بڑھتا رہا، جو 2025 میں تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ محققین اس رجحان کو ایک ساختی تبدیلی قرار دیتے ہیں اور خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کا صحت کا شعبہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے بجائے بتدریج بیرونی منڈیوں کے لیے ڈاکٹر تیار کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








