کراچی: نجی اسکول کے خلاف فیس کیلئے بچوں اور والدین پر تشدد کے الزام میں کارروائی کی گئی ہے، وزارتِ تعلیم نے سخت ایکشن لیتے ہوئے دی اسمارٹ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی۔
تفصیلات کے مطابق دی اسمارٹ اسکول میں والدین اور بچوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ وزیرِ تعلیم سندھ نے سخت ایکشن لے لیا۔ محکمۂ تعلیم ڈائریکٹریٹ پرائیویٹ انسپکشن نے نجی اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی ہے۔
گزشتہ روز وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار شاہ کے حکم پر 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسکول میں بچوں اور والدین پر تشدد کے معاملے پر انکوائری کمیٹی کے چیئرمین رفیع الدین ڈھکن، رکن گلاب رائے اور ممتاز حسین کو تعینات کیا گیا۔
تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ دی اسمارٹ اسکول میں فیس جمع نہ کروانے کی صورت میں بچوں کو اسکول روم میں بند کرنے، اضافی فیسز وصول کرنے اور بینک کی بجائے کیش میں فیس لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس پر رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھجوائی گئی۔
انکوائری کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ پر ڈی جی پرائیویٹ اسکولز نے دی اسمارٹ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی جبک تفصیلی رپورٹ وزیرِ تعلیم سندھ کو ارسال کردی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ والدین کی شکایات درست ثابت ہوئیں جس پر کارروائی کی گئی۔
خیال رہے کہ اِس سے قبل کراچی کے نجی اسکول نے فیس کی عدم ادائیگی پر طالبہ کو کلاس سے نکال دیا، بات چیت کیلئے آنیوالے باپ سے مارپیٹ کی گئی، والد کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا، شکایت پر معائنے کیلئے آنیوالی محکمہ تعلیم کی ٹیم کیلئے دروازے بندکردیئے۔
یہ افسوسناک واقعہ آج سے 2 روز قبل 15 ستمبر کو پیش آیا جب سٹی اسکول کے اسمارٹ اسکول کینٹ کیمپس کی انتظامیہ نے ماہانہ فیس لیٹ ہونے پر بچی کو کلاس سے نکال دیا۔
بات چیت کیلئے اسکول آنیوالے باپ کو بچی کے سامنے تشدد کا نشانہ بناکر دھوپ میں کھڑا کردیا گیا،متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ بیٹی کی فیس ادا نہ کرنے پر اسکول انتظامیہ نے مجھ پر تشدد کیا۔
مزید پڑھیں: نجی اسکول انتظامیہ کا بچی کے سامنے باپ پر تشدد، دھوپ میں کھڑا کردیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








