پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے خدشات دم توڑنے لگے کیونکہ ایندھن سے بھرے کئی جہاز ملک کے مختلف بندرگاہوں پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جس سے ملک بھر میں پیٹرول کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
پورٹ قاسم انتظامیہ کے مطابق اس وقت بندرگاہ پر ایندھن لے کر آنے والے جہازوں کا رش ہے۔ 9 مارچ کو ایم ٹی ناوے ایٹروپوس نامی جہاز 50 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لے کر پورٹ قاسم پہنچ چکا ہے۔ علاوہ ازیں ایم ٹی اسپروس ٹو ساڑھے آٹھ بجے رات 10 مارچ کو 52,500 ٹن پیٹرول لے کر کراچی میں آئے گا جبکہ ایم ٹی سی کلپر تقریباً 34 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لیکر 11 مارچ دوپہر 12 بجے بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گا۔
گیسولین بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی پہلے ہی فوٹکو ٹرمینل پر موجود ہے اور فجیرہ سے ایک اور جہاز بھی ملک پہنچ چکا ہے۔
پورٹ قاسم کے ترجمان نے بتایا کہ ایک جہاز عمان سے روانہ ہو چکا ہے اور مزید دو جہازوں کی آمد کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
اگرچہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پائی جاتی ہے، پاکستان کے لیے ایندھن کی سپلائی لائن مسلسل برقرار ہے اور مزید جہازوں کی آمد متوقع ہے۔
ایندھن سے بھرے ان جہازوں کی آمد سے مارکیٹ میں موجود پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خدشے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دستیاب اسٹاک ملک کی ضرورت کے مطابق ہے اور کسی قسم کی قلت کا امکان نہیں رہے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








