اہل پاکستان کیلئے یہ خوشی کی بات سامنے آئی ہے کہ معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کو دنیا بھر میں اسلام کے داعی اور تقابل ادیان کے ماہر مقرر کے طور پر بڑے پیمانے پر پہچانا جاتا ہے۔ گزشتہ 24 سالوں میں انہوں نے 40 سے زائد ممالک میں 2,000 سے زیادہ عوامی مذاکرے کیے ہیں، ڈاکٹر نائیک کے ان مذاکروں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے لیکچرز کے بعد سوال و جواب کا کھلا سیشن ہوتا ہے، جس میں ہر مذہب کا شخص دین اسلام پر کسی بھی طرح کا سوال یا اعتراض کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر نائیک نے ان سوالات کے بہت نپے تلے، تحمل اور دلیل سے جواب دینے کیلئے معروف اور مقبول ہیں۔ ان کے ساتھ پبلک مذاکروں کے اختتام پر بے شمار لوگ اسلام میں داخل ہوچکے ہیں۔
حال ہی میں ڈاکٹر نائیک نے ایک پاکستانی یوٹیوبر کے ساتھ اپنے انٹرویو میں اپنی زندگی کے اہم لمحات پر تبادلہ خیال کیا، یہ انٹرویو نشر ہوتے ہی ہر طرف چھا گیا اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ سمیٹنے میں کامیاب ہوا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے آج تک پاکستان کا دورہ کیوں نہیں کیا تو ڈاکٹر نائیک نے جواب دیا کہ میرے لیے پاکستان جانا آسان تھا، میں نے پہلے بھی پاکستان کا ایک بار دورہ کیا ہے اور وہاں میرے بڑے چاہنے والے موجود ہیں۔
تاہم انہوں نے ایک اسلامی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شریعت ہمیں بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے نقصان کو قبول کرنے کا درس دیتی ہے، چنانچہ اگر میں پاکستان چلا جاتا تو ہندوستان میں مجھے آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیا جاتا اور جھوٹا پروپیگنڈا کرکے اسلام کی دعوت کی راہیں روک دی جاتیں، اس لیے میں نے جانے سے گریز کیا۔
ڈاکٹر نائیک نے مزید کہا تھا کہ بھارت چھوڑنے کے بعد میرا پہلے بھی ایک بار پاکستان میں لیکچر کیلئے جانے کا پروگرام بنا، مگر کوویڈ آڑے آیا۔ انہوں نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اب عنقریب میں پاکستان جانے والا ہوں۔
ان کے اس انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خبریں گرم ہیں کہ وہ اکتوبر میں پاکستان آنے والے ہیں۔ اس سلسلے میں فیس بک پر مختلف پوسٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد میں 11 اکتوبر کو لیکچر دیں گے۔
ساتھ ہی مذہبی تنظیم مرکزی مسلم لیگ نے آفیشلی ڈاکٹر ذاکر نائیک کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیس بک پر اردو اور انگریزی زبان میں خیر مقدمی پوسٹر شیئر کیے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








