دیوبندی مکتب فکر کے معروف روحانی پیشوا، اسلامی اسکالر اور شیخ الحدیث مفتی سید مختار الدین شاہ انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 74 تا 75 برس تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سے دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
مفتی سید مختار الدین شاہ جامعہ زکریا دارالامان کربوغہ شریف، ضلع ہنگو کے شیخ الحدیث تھے اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ دارالعلوم کراچی کے فاضل تھے اور معروف محدث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے خلیفہ مجاز تھے۔
وہ تحریک ایمان و تقویٰ کے بانی تھے۔ ان کی خانقاہ کربوغہ شریف ضلع ہنگو میں سال بھر تعلیم و تربیت اور اصلاح کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ملک کے مختلف علاقوں سمیت دنیا کے مختلف خطوں سے لوگ اصلاح کی غرض سے چلہ، عشرہ اور سہ روزہ کے لیے کربوغہ شریف آتے تھے۔
مفتی سید مختار الدین شاہ کا مقصد مسلمانوں کو غفلت سے بیدار کرنا، امت میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنا، ایک بہتر اسلامی معاشرے کی تشکیل اور فکری و عملی غلامی سے نجات دلانا تھا۔
وہ ایک معروف مصنف بھی تھے اور متعدد دینی و اصلاحی کتب تحریر کیں، جن میں ایمانی صفات (جلد اول، جلد دوم)، آئینہ ایمان، عقیدہ اور عقیدت، دھریت سے اسلام، عروج و زوال، البرہان فی تفسیر القرآن، اصلاحی مجالس، اسلام اور آج کا مسلمان، اسلام کے نام پر روح اسلام کو مٹانے کی شیطانی سازش، کتاب الحیض، کتاب القسم، کتاب الطلاق، مناجات الفقیر (اردو و انگریزی)، راہ محبت، ذکر اللہ کے فضائل و مسائل اور کتاب النکاح شامل ہیں۔
ان کے عقیدت مندوں اور مریدین کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے، جبکہ دینی حلقوں میں ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








