واشنگٹن: امریکی فوج نے تاحال خلائی مخلوق اور یو ایف اوز کے وجود کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم اڑن طشتریوں سے متعلق رپورٹ 20 جون کو امریکی کانگریس میں پیش ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ 20 برس میں امریکی پائلٹس نے فضا میں بلند انجان اجسام (یو ایف اوز) یا اڑ طشتریوں سے متعلق 120 واقعات درج کرائے۔ امریکی فوج کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے پراسرار واقعات کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی۔
امریکی فوج کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اڑن طشتریوں یا خلائی مخلوق کی موجودگی کے ثبوت نہیں مل سکے، تاہم یو ایف اوز کی موجودگی کے امکانات رد بھی نہیں کیے جاسکتے۔ رواں ماہ 25 جون کو جمعے کے روز امریکی کانگریس میں یو ایف اوز سے متعلق رپورٹ پیش ہوگی۔
سابق امریکی صدور نے بھی فضا میں پراسرار اجسام کی موجودگی کی تصدیق کردی۔ سابق صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایسے اجسام کی رپورٹس اور ویڈیوز موجود ہیں جن کے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ میں نے پراسرار اجسام کے متعلق رپورٹس کا مطالعہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ فضا میں اڑتے ہوئے پراسرار اجسام کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ اڑن طشتریاں ہیں۔ میں ذاتی طور پر اڑن طشتریوں یا خلائی مخلوق پر یقین نہیں کرتا لیکن کچھ بھی ممکن ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ 25 جون کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں تمام تر واقعات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ تاحال اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کی موجودگی کی تصدیق سائنسدانوں یا کسی بھی ملک کی حکومت کی جانب سے نہیں کی گئی، تاہم امریکا اور دیگر یورپی ممالک کے علاوہ اڑن طشتریاں دیکھے جانے کے واقعات ایشیا میں بھی رپورٹ کیے جاچکے ہیں۔
پاکستان میں بھی رواں برس 24 جون کے روز قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کے پائلٹ نے ایک اڑن طشتری دیکھنے کا دعویٰ کیا ، تاہم ایک پاکستانی سائنسدان نے اس کی تردید کردی۔ معروف سائنسدان جاوید سمیع نے اڑن طشتری کو لینٹیکلر کلاؤڈ قرار دے دیا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں اڑن طشتری کا نظارہ اور خلائی سائنسدان کا تجزیہ، حقیقت کیا ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








