طالبان میں پھوٹ پڑ گئی، رسہ کشی شروع، جانئے کون کونسے گروپ ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

طالبان کے چند سرکردہ رہنما، فائل فوٹو

افغانستان میں طالبان حکومت اندرونی اختلافات اور گروپ بندی کے خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ اقتدار کی اصل کشمکش اس وقت دو بڑے دھڑوں قندھاری گروپ اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان جاری ہے، جن کے نظریات، حکمت عملی اور خارجہ پالیسیوں میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔

قندھاری گروپ

ذرائع کے مطابق قندھاری گروپ کی قیادت طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے ہاتھ میں ہے، جبکہ ان کے قریبی ساتھیوں میں ملا یعقوب (وزیرِ دفاع) اور امیر خان متقی (وزیرِ خارجہ) شامل ہیں۔ یہ گروپ مذہبی قدامت پسندی اور پختون قوم پرستی کے امتزاج کو اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنائے ہوئے ہے اور اس کا اثر و رسوخ قندھار، ہلمند اور نمروز جیسے جنوبی صوبوں میں زیادہ ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ قندھاری گروپ شریعت کے نفاذ کے نام پر سخت گیر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ خواتین کی تعلیم پر پابندی، میڈیا پر قدغن، اور نسلی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اسی گروپ کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ حتیٰ کہ بھارت کے ساتھ رابطے بڑھانے کی کوششوں نے طالبان کی صفوں میں بھی اختلافات کو جنم دیا ہے۔

حقانی گروپ

دوسری طرف حقانی نیٹ ورک جس کی بنیاد 1980 کی دہائی میں جلال الدین حقانی نے رکھی، طالبان کے اندر عسکری طور پر سب سے منظم اور طاقتور دھڑا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے موجودہ سربراہ سراج الدین حقانی، جو طالبان حکومت میں وزیرِ داخلہ ہیں، اپنے نظم و ضبط اور جنگی حکمت عملی کے باعث اہم مقام رکھتے ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کے پاس اپنے تربیتی مراکز، اسلحہ گودام، اور مالی خودکفالت کے ذرائع موجود ہیں۔ یہ گروپ افغانستان کے مشرقی صوبوں خوست، پکتیا، پکتیکا اور لوگر میں مضبوط جڑیں رکھتا ہے اور خود کو طالبان حکومت کا عملی چہرہ سمجھتا ہے۔

حقانی گروپ کو نسبتا پاکستان کا حامی سمجھا جاتا ہے، اس کے علاوہ یہ گروپ خواتین کی تعلیم اور روزگار کا بھی حامی ہے اور اس حوالے سے قندھاری گروپ کی سخت گیر پالیسی کا ناقد ہے۔ اس گروپ کا طالبان کا اصلاح پسند گروپ بھی سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، قندھاری گروپ کی بالادستی کے باعث حقانی نیٹ ورک کے اثر و رسوخ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سراج حقانی نے حالیہ مہینوں میں کابل چھوڑ کر اپنے مضبوط گڑھ میں پناہ لی ہے۔

پشتون مخالف دھڑے

ادھر افغانستان کی نسلی تقسیم بھی طالبان حکومت کے لیے نیا چیلنج بن چکی ہے۔ پختون اکثریت کے مقابلے میں تاجک، ازبک اور ہزارہ برادریاں خود کو نظرانداز شدہ محسوس کر رہی ہیں۔ تاجک رہنما احمد مسعود کی مزاحمتی تحریک، طالبان کی پختون مرکزیت پر مبنی پالیسیوں کے خلاف سرگرم ہے۔

دینی محاذ پر بھی اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ کنڑ اور نورستان کے سلفی علما پر سخت نگرانی اور ان کی تقاریر پر پابندی کے باعث ناراضی بڑھ رہی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، طالبان دورِ حکومت میں اب تک کم از کم 30 سلفی رہنما مشکوک حالات میں مارے جا چکے ہیں جس نے داعش خراسان (ISKP) کے لیے نئی بھرتیوں کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے اندر جاری یہ دھڑے بندی ملک کو دوبارہ خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ قندھاری گروپ کی شدت پسندی، حقانی نیٹ ورک کی عسکری بے بسی، نسلی اقلیتوں کی محرومی، اور خواتین کی تعلیم پر پابندی — یہ تمام عوامل افغانستان کی وحدت کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اگر طالبان حکومت نے فوری طور پر شمولیتی حکومت اور قومی مفاہمت کی طرف پیش رفت نہ کی تو افغانستان ایک بار پھر داخلی تصادم اور خونریز انتشار کی لپیٹ میں آ سکتا ہے  جس کے اثرات نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے پر پڑیں گے۔

Related Posts