روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ، ترسیلاتِ زر اور بہتری کی طرف گامزن پاکستانی معیشت

تازہ ترین

تازہ ترین

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ، ترسیلاتِ زر اور بہتری کی طرف گامزن پاکستانی معیشت
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ، ترسیلاتِ زر اور بہتری کی طرف گامزن پاکستانی معیشت

معاشی اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی معیشت رفتہ رفتہ بہتری اور استحکام کی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ ترسیلاتِ زر کو ایک اہم نکتہ قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے معیشت کو جدید تقاضوں سے بھی ہمکنار کیا ہے جن میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بھی شامل ہے جو قومی معیشت کیلئے بہتری کی امید قرار دی جاسکتی ہے۔

آئیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ، ترسیلاتِ زر اور معیشت کے دیگر حقائق کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا واقعی پاکستانی معیشت بہتری کی گامزن ہے اور کیا مہنگائی اور افراطِ زر جیسے مسائل پر بھی قابو پالیا جائے گا؟

وزیرِ اعظم کا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کیا ہے؟

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ایک اہم سہولت ہے جس کی مدد سے وہ پاکستان میں آسانی کے ساتھ سرمایہ کاری اور دیگر مالیاتی امور سرانجام دے سکیں گے جس کا افتتاح وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ 10 ستمبر کو کیا۔

سمندر پار پاکستانی جو کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں، وہ وطنِ عزیز کے 8 بڑے بینکس میں اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں اور سرمایہ کاری سے اپنے مالی وسائل میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے اعدادوشمار

کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشن اٹاوا اور قونصل جنرل آف پاکستان میں ایک ویبینار ہوا جس کے دوران شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ 40 ہزار غیر مقیم پاکستانی روشن ڈیجیتل اکاؤنٹس کھلوا چکے ہیں جو ایک اہم پیشرفت ہے۔

شرکائے ویبینار کو بتایا گیا کہ ہر روز 1 ہزار نئے اکاؤنٹس کھل رہے ہیں جس سے سمندر پار پاکستانیوں کی وطن میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی بتایا گیا کہ ملکی ترقی کیلئے ترسیلاتِ زر کا کردار کتنا اہم ہے۔ 

ترسیلاتِ زر اور ملکی معیشت 

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ترسیلاتِ زر سے کیا مراد ہے؟ سادہ الفاظ میں صرف اتنا سمجھنا کافی ہوگا کہ سمندر پار پاکستانی بیرونِ ملک سے جو رقم بھجواتے ہیں اسے ترسیلاتِ زر کا نام دیا جاتا ہے۔ 

چاہے یہ رقم رشتہ داروں کی مدد کیلئے بھجوائی جائے یا پھر پاکستان میں کسی کاروبار پر سرمایہ کاری کی جائے یا پھر کسی اور طریقے سے رقم پاکستان آئے تاہم اس کا طریقہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ قانونی طریقے سے بھجوائی جائے، تبھی پاکستان کو اس کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

گزشتہ 10 سال میں سمندر پار پاکستانیوں کی مدد سے ترسیلاتِ زر میں 10 اعشاریہ 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو ہمارے ہمسایہ ملک بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور فلپائن سے بھی بہتر ہے۔

پاکستان کو بھیجی گئی گزشتہ سال کی ترسیلاتِ زر کا حجم 23 اعشاریہ 12 ارب ڈالرز بنتا ہے جس سے پاکستان نے 23 اعشاریہ 18 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ پورا کرنے میں مدد حاصل کی اور روپے کی قدر بھی استحکام کی طرف بڑھی۔ 

مہنگائی اور افراطِ زر کے مسائل 

ہم سب مہنگائی سے خوب اچھی طرح واقف ہیں کہ مہنگائی سے مراد کسی بھی ایسی چیز کی قیمت میں اضافہ ہے جس کی عوام الناس کو ضرورت ہو یا پھر وہ جسے خریدنا چاہیں تاہم افراطِ زر ایک الگ معاشی اصطلاح ہے۔

افراطِ زر سے مراد یہ ہے کہ جو دولت قطرہ قطرہ ہی سہی، ملک کے ہر فرد کے ہاتھوں میں ہونی چاہئے وہ سمندر یا کچھ دریاؤں کی صورت میں چند ہاتھوں میں محدود ہو کر رہ جائے، اور پاکستان بھی آج کچھ ایسی ہی صورتحال کا شکار ہے۔

وطنِ عزیز میں مہنگائی ہوشربا حد تک بڑھ چکی ہے اور افراطِ زر کی شرح بھی قابلِ تشویش حد تک زیادہ ہے، جس پر قابو پانے کیلئے وزیرِ اعظم عمران خان پر عزم نظر آتے ہیں۔ 

وفاقی کابینہ کا اجلاس اور مہنگائی کا مسئلہ 

گزشتہ ماہ 27 اکتوبر کو وزیرِ اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ اجلاس میں مہنگائی کے معاملے کی تہہ تک جانے کا اعلان کیا۔ عمران خان نے کہا کہ مہنگائی کنٹرول ہونے تک سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔

عوام کو درپیش مہنگائی کے مسائل پر کابینہ اجلاس میں تفصیلی بحث تو ہوئی تاہم وزراء میں سے بعض نے ملکی میڈیا کے مطابق کہا کہ بیوروکریسی مہنگائی کے مسائل حل کرنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ 

بیوروکریسی رکاوٹ کیوں؟

بظاہر سیاستدان اور وفاقی حکومت جتنی مضبوط ہوتی ہے، بیوروکریسی ان کے مقابلے میں اتنی ہی مضبوط اور خطرناک ہوتی ہے۔ یہ لوگ حکومت کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دے کر سب کچھ برا بھی کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں، اس کا ثبوت موجودہ مہنگائی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان اور وفاقی وزراء تو مہنگائی کے خلاف ایکشن چاہتے ہیں اور بیوروکریسی اس کی راہ میں مختلف قسم کے روڑے اٹکانے میں مصروف ہے۔ مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور من مانی قیمتوں پر عوام کو اشیائے ضرورت کی فروخت الگ مسائل ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔

ٹائیگر فورس کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش 

قبل ازیں ہو یہ رہا تھا کہ وزیرِ اعظم جب بھی مہنگائی کا نوٹس لینے کی یا اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کی بات کرتے، عملی طور پر قیمتیں بڑھ جایا کرتیں، پھر وزیرِ اعظم نے ٹائیگر فورس سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی پر ٹائیگر فورس نے میگا کریک ڈاؤن کیا جس میں بھاری ذخیرہ اندوزی کو روکا گیا اور اسٹاک شدہ سامان تحویل میں لے لیا گیا۔

میگا کریک ڈاؤن کے حوالے سے گزشتہ ماہ کے آخری روز یعنی 31 اکتوبر کو بھی پنجاب بھر میں گندم، چینی، چاول اور گھی کے غیر قانونی ذخائر قبضے میں لیے گئے جن کی مالیت کروڑوں میں ہے۔

ذخیرہ اندوزی کے خلاف ماہانہ رپورٹ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی خدمت میں پیش کی گئی جس کے مطابق 1 ہزار 300 ٹن چینی کے 25 ہزار بیگز تحویل میں لیے گئے جس کی مالیت 10 کروڑ سے زیادہ تھی۔ مجموعی طور پر 12 کروڑ 40 لاکھ کی ذخیرہ اندوزی روکی گئی۔ 

حل طلب مسائل اور عملی اقدامات کی ضرورت

حقیقت یہ ہے کہ صرف اسلام آباد یا پنجاب میں مہنگائی نہیں ہے بلکہ ملک کا ہر شہر اور ہر صوبہ اس سے متاثر ہے۔ جب تک سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے ہر صوبے سے مہنگائی کے خلاف عملی اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اس کے باوجود ترسیلاتِ زر میں اضافہ خوش آئند ہے، وزیرِ اعظم نے چھوٹے کاروباری افراد کیلئے بجلی کے بلوں میں رعائتی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے 1 سال تک 50 فیصد رعایتی بلنگ کا اعلان کیا جبکہ اگلے 3 سال تک بجلی 25 فیصد رعایت پر دی جائے گی۔

ملک کا کاروباری طبقہ جہاں اِس خبر سے خوش ہے، وہیں عوام الناس آج بھی وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ اشیائے خوردونوش پر رعایتی پیکیج کا اعلان کب کیا جائے گا؟ وفاقی حکومت کو سنجیدگی سے ایسے مسائل پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ 

Related Posts