جرمنی کے دفاعی سربراہ جنرل کارسٹن بریور نے خبردار کیا ہے کہ روس 2029 تک نیٹو پر حملہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے روس کی سالانہ 1,500 ٹینکوں کی تیاری اور لاکھوں توپ کے گولوں کے ذخیرے کو نیٹو کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ بریور کے مطابق، “روس کی فوجی تیاری نیٹو کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
روس کی بڑھتی ہوئی فوجی تیاری اور یوکرین کے فضائی حملے نیٹو کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔ اگر روس 2029 تک نیٹو پر حملہ کرتا ہے، تو اس کے لیے یوکرین میں حاصل شدہ تجربات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن ہے۔ نیٹو کو نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ہوگا بلکہ روس کی ممکنہ حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید فضائی اور ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
نیٹو (NATO) یعنی “معاہدہ شمالی اوقیانوس” ایک بین الاقوامی فوجی اتحاد ہے جو 4 اپریل 1949 کو قائم ہوا۔ اس کا مقصد رکن ممالک کی مشترکہ دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
نیٹو کا مکمل نام “North Atlantic Treaty Organization” ہے، جسے اردو میں “معاہدہ شمالی اوقیانوس” کہتے ہیں۔ یہ ایک بین الحکومتی فوجی اتحاد ہے جس میں 30 یورپی اور شمالی امریکی ممالک شامل ہیں۔ اس کا قیام سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے ممکنہ حملے کے خلاف دفاع کے لیے عمل میں آیا تھا۔
نیٹو کا بنیادی مقصد اپنے رکن ممالک کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ ہے۔ اگر کسی رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر تمام رکن ممالک اس کی مدد کے لیے متفق ہیں۔ یہ اصول “اجتماعی دفاع” کہلاتا ہے اور نیٹو کے معاہدے کے آرٹیکل 5 میں درج ہے۔
نیٹو کے رکن ممالک میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ترکی، پولینڈ، رومانیہ، بلغاریہ، ہنگری، ایسٹونیا، لٹویا، لِتھوانیا، سلووینیا، کروشیا، سلوواکیہ، البانیہ، مونٹی نیگرو، مقدونیہ، فن لینڈ اور سویڈن شامل ہیں۔
نیٹو نہ صرف فوجی دفاع بلکہ انسانی امداد، قدرتی آفات سے نمٹنے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سائبر حملوں کے خلاف بھی اقدامات کرتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے کام کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








