پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں آنے والے اچانک سیلاب نے جہاں کئی سیاحوں اور مقامی باشندوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا، وہیں بابوسر ٹاپ پر ایک نوجوان کی اپنی بھابھی اور بھتیجے کی جان بچاتے ہوئے خود شہید ہونے کی خبر نے پورے ملک کو غمگین کر دیا۔
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ بابوسر ٹاپ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک خاندان تفریح کے لیے علاقے میں موجود تھا اور اچانک آنے والے نالے کے پانی نے شدید طغیانی کی صورت اختیار کر لی۔
مقامی ریسکیو ٹیموں کے مطابق رضوان کی لاش کئی گھنٹے کی تلاش کے بعد کافی فاصلے سے ملی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو خود کو بچا سکتا تھا مگر اس نے اپنے پیاروں کو ترجیح دی۔ اس کا یہ عمل ایثار، خلوص اور بے مثال محبت کی وہ مثال بن گیا ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کو ریسکیو کر کے ناران منتقل کیا گیا جبکہ رضوان کی میت آبائی علاقے روانہ کر دی گئی، جہاں فضاء سوگوار رہی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
مقامی افراد اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے رضوان کو بابوسر کا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ایک لمحے میں اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر یہ پیغام دیا کہ رشتوں کی اصل قیمت قربانی سے ادا ہوتی ہے۔
محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں بابوسر، ناران، کاغان، اور اطراف کے علاقوں میں شدید بارشوں اور طوفانی ندی نالوں کے باعث مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ سیاحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسمی الرٹس پر عمل کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








