معروف گلوکار سیف سمیجو پر کراچی پولیس نے کتنا تشدد کیا؟ اس حوالے سے گلوکار سیف سمیجو کا ویڈیو بیان سامنے آگیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ میں ٹھیک ہوں، لیکن تشدد ہوا ہے۔
ہنگامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پریس کلب کے باہر سندھ رواداری مارچ میں شرکت کے دوران پولیس نے متعدد افراد پر تشدد کیا، تشدد کا شکار گلوکار سیف سمیجو نے ویڈیو بیان میں تفصیل بیان کردی۔ فوک گلوکار صنم ماروی اور شہزاد رائے سمیت دیگر شخصیات نے سیف سمیجو پر پولیس تشدد کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد افسوس کا اظہار کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق بیان میں گلوکار سیف سمیجو نے کہا کہ دنیا بھر سے مجھے بے شمار پیغامات موصول ہوئے، لوگ میری خریت دریافت کر رہے تھے۔ میں نے مارچ میں شرکت سندھ میں رواداری کی فضا برقرار رکھنے کیلئے کی، خواتین اور فیملیز بھی مارچ میں شریک ہوئی تھیں، ہم بہتر معاشرے کے قیام کیلئے اپنی آواز بلند کر رہے تھے۔ ہمیں اجازت نامہ بھی جاری ہوا تھا۔
بیان میں گلوکار سیف سمیجو نے کہا کہ ایک مذہبی جماعت نے ہمارے مارچ کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا۔ اچانک انتظامیہ نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کردی اور ہر قسم کے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کی گئی تاکہ ہمارا مارچ رک جائے، ہم نے مارچ میں سیاسی سوچ سے بالاتر ہو کر شرکت کی اور مختلف شعبوں کے معززین مارچ میں اہلِ خانہ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔
سیف سمیجو کا کہنا تھا کہ مارچ کا مقصد تو یہ تھا کہ سندھ کی پہچان رواداری کا جذبہ ہے، بڑھتی ہوئی جنونیت، انتہا پسندی معاشرے کو اپنی بھینٹ نہ چڑھا دے، اس پر میری اپنی کوئی آئیڈیالوجی نہیں بلکہ میں تو صرف ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کیلئے مارچ کا حصہ بنا۔ پولیس نے مارچ کے شرکا پر حملہ کیا، نہ صرف مارپیٹ کی بلکہ تذلیل کی اور مذہبی نعرے بھی لگائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن مظالم کا ہمیں سامنا کرنا پڑا، وہ ہم فلموں میں دیکھا کرتے تھے۔ پھر ہمیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، کچھ وزراء نے مجھ سے فون پر بات کی، وہ اس دوران ہنس رہے تھے، مجھے اچھا نہیں لگا کیونکہ ان کیلئے یہ صورتحال مذاق کے مترادف تھی۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ طاقت ہمیشہ نہیں رہتی، طاقت تو آج ہے، لیکن کل نہیں ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








