اسلام آباد: سابق کپتان جاوید میانداد اور معین خان کے بعد سابق مایہ ناز آف اسپنر ثقلین مشتاق بھی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانے کے فیصلے کے خلاف بول پڑے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرفراز کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ عجلت میں لیا گیا ہے جس کا پی سی بی کو مستقبل میں نقصان ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم سری لنکا کے خلاف گھر کے میدان میں بری طرح ہاری جس پر کپتان سرفراز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، اگر میں مصباح الحق کی جگہ ہوتا تو میں سرفراز کو ایک سیریز کپتانی کے لئے مزید دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: دورہ آسٹریلیا کے لیے قومی ٹی 20اورٹیسٹ ٹیم کااعلان، سرفرازجگہ بنانے میں ناکام
دوسرا کے مؤجد نے بابر اعظم کو کپتان بنائے جانے کے فیصلے پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پی سی بی اس وقت بہت زیادہ تجربات کر رہا ہے اور بابراعظم کی بطور کپتان تعیناتی بھی ایک ایسا ہی نیا تجربہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ اس سے قبل بابر نے ڈومیسٹک یا انڈر 19 ٹیم کی کپتانی کی ہے، اس طرح کے تجربے اے ٹیم کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر سے نتائج حاصل کرنے کے لیے اسے کچھ وقت دینا ہوگا، وقاریونس
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








