ستیہ پرکاش سنگھا (دیوان بہادر) اور 11 اگست، یومِ اقلیت کی اصل داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

Satya Prakash Singha (Dewan Bahadur) and the True Story of August 11 – Pakistan’s Minority Day
ONLINE

پاکستان میں ہر سال 11 اگست کو “یومِ اقلیت” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عام طور پر اس دن کی تقاریب میں پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کی خدمات اور قربانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس تاریخ میں ایک ایسا جری اور وفادار پاکستانی سپاہی بھی شامل ہے، جس نے “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بلند کرنے کی پاداش میں اپنی زندگی اور اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

یہ عظیم شخصیت تحریکِ پاکستان کے متحرک مسیحی رہنما ستیہ پرکاش سنگھا ہیں، جو آج “دیوان بہادر ایس پی سنگھا” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا کردار پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسے سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے، جو بدقسمتی سے ہمارے نصاب اور اجتماعی یادداشت سے غائب ہے۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
ستیہ پرکاش سنگھا 26 اپریل 1893ء کو پسرور، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی پس منظر برصغیر کی تہذیبی و لسانی تنوع کی عکاسی کرتا ہے، دادا بہاری، دادی بنگالی، والدہ پنجابی—لیکن وہ اپنی شناخت صرف “مسیحی” یا “اقلیتی” دائرے تک محدود نہیں رکھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ سب سے پہلے ایک پاکستانی ہیں۔

انہوں نے اعلیٰ تعلیم سینٹ اسٹیفن کالج دہلی اور فارمین کرسچن کالج لاہور سے حاصل کی، جہاں سے انہوں نے ماسٹرز اور ایل ایل بی کی ڈگریاں مکمل کیں۔ بعدازاں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بطور رجسٹرار خدمات انجام دیں۔ ان کی علمی، انتظامی اور تدریسی خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے انہیں “دیوان بہادر” کے اعزاز سے نوازا۔

سیاسی سفر اور قائداعظم سے وابستگی
1937ء میں ستیہ پرکاش سنگھا نے پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے سیاست میں قدم رکھا اور آل انڈیا کرسچن ایسوسی ایشن کی نمائندگی شروع کی۔

1942ء میں لاہور میں انہوں نے محمد علی جناح کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالیہ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر انہوں نے برملا اعلان کیا:”ہم مسیحی پاکستان کے ساتھ ہیں، قائداعظم ہمارے رہنما ہیں۔”

یہ اعلان اس وقت نہایت جرات مندانہ قدم تھا، جب کانگریس اور اس کی حامی مسیحی جماعتیں پاکستان کی مخالفت کر رہی تھیں۔ لیکن سنگھا نے حالات کے دھارے کا صحیح رخ پہچان لیا تھا۔ اس موقع پر قائداعظم نے کہاکہ “ہم مسیحیوں کی قربانیوں اور احسانات کو کبھی نہیں بھولیں گے۔”

پنجاب اسمبلی کا تاریخی ووٹ اور پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ
23 جون 1947ء کو پنجاب اسمبلی میں ایک فیصلہ کن اجلاس منعقد ہوا، جس میں یہ طے ہونا تھا کہ پنجاب بھارت کا حصہ بنے گا یا پاکستان میں شامل ہوگا۔اس اجلاس میں مسیحی ارکان کے ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے تھے۔

جب دھمکی آمیز نعرے لگائے گئے کہ “جو پاکستان کے حق میں ووٹ دے گا، اس پر حملہ ہوگا”، تو ستیہ پرکاش سنگھا سینہ تان کر کھڑے ہوئے اور کہاکہ “سینے پر گولی کھائیں گے، پاکستان بنائیں گے!”

انہوں نے نہ صرف پاکستان کے حق میں ووٹ دیا، بلکہ بطور اسپیکر اضافی ووٹ بھی ڈال کر تناسب 91 بمقابلہ 88 کر دیا، جس کے نتیجے میں پنجاب پاکستان کا حصہ بنا۔ یہ لمحہ پاکستان کی جغرافیائی اور سیاسی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

وفات اور بعد از مرگ اعزازات
ستیہ پرکاش سنگھا 1948ء میں وفات پا گئے۔ 2016ء میں پاکستان پوسٹ نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا، جو بلاشبہ ایک خوش آئند قدم تھا، مگر یہ اعتراف آج بھی ناکافی ہے، کیونکہ ان کا ذکر ہمارے تعلیمی نصاب اور قومی یادداشت میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

یومِ اقلیت کا آغاز اور اس کا اصل مقصد
11 اگست کو یومِ اقلیت منانے کا باضابطہ آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں 2009ء میں ہوا، جب اس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے اس دن کو حکومتی سطح پر منانے کا اعلان کیا۔ مقصد یہ تھا کہ قیامِ پاکستان میں اقلیتوں کے کردار کو اجاگر کیا جائے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔

اقلیتوں کا موجودہ کردار اور چیلنجز
پاکستان کے قیام کے لیے مسیحیوں نے اپنی جان تک قربان کر دی، مگر آج پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی حکومت میں ایک بھی مسیحی وزیر موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے لیے مواقع بڑھیں گے یا وہ مزید مشکلات کا شکار ہوں گے؟

آج مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر اقلیتیں پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا گو ہیں۔ جنگ ہو یا امن، قربانی ہو یا خدمت—اقلیتیں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی ہیں۔

یومِ اقلیت: یاد دہانی کا دن، محض رسمی تقریب نہیں
یومِ اقلیت کو صرف تقریروں، نغموں اور تصویروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یہ دن یاد دہانی ہے کہ پاکستان سب کا ہے۔ وطن کے سبز و سفید پرچم میں لپٹے ہم سب کو اکثریت اور اقلیت کا فرق بھول جانا چاہیے۔

جب ہم سب مل کر ملک کی بقاء اور سلامتی کے لیے ایک ہو جائیں گے تو نہ صرف قومی یکجہتی بڑھے گی بلکہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ترقی یافتہ اور مضبوط ملک کے طور پر ابھرے گا۔

نوٹ:
راقم التحریر سلامت نور پاکستان پیپلزپارٹی منارٹی ونگ کراچی کے نائب صدر، اقلیتی کمیشن اور  ٹیچر ریسورس سینٹر کے رکن اور معروف صحافی و تجزیہ کار ہیں۔

 

Related Posts