سعودی عرب نے شراب پر پابندی ختم کرنے کی تردید کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سعودی عرب کے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے پیر کے روز میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ مملکت اسلام کے مقدس ترین مقام ہونے کے باوجود 73 سالہ شراب پر عائد پابندی کو ختم کرنے جا رہی ہے۔

یہ رپورٹ، جو گزشتہ ہفتے ایک شراب سے متعلق بلاگ پر شائع ہوئی تھی، کے مطابق سعودی حکام نے 2034 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے پیش نظر سیاحتی مقامات پر شراب کی فروخت کی اجازت دینے کا منصوبہ بنایا تھا۔

سعودی حکومتی ترجمان نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مملکت اپنے موجودہ قوانین پر قائم رہے گی اور شراب پر عائد پابندی میں کسی قسم کی نرمی یا تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں “ویژن 2030” کے تحت ملک میں سماجی اور اقتصادی اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس میں سیاحت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں 1952 سے شراب پر مکمل پابندی عائد ہے، اور اس فیصلے کا مقصد ملک کی اسلامی اقدار اور روایات کی حفاظت کرنا ہے۔

حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے ریاض کے سفارتی علاقے میں غیر مسلم سفارتکاروں کے لیے محدود مقدار میں شراب فروخت کرنے والی دکان کھولی تھی، جسے ملک میں شراب پر عائد پابندی میں نرمی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

تاہم، حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف غیر مسلم سفارتکاروں کے لیے تھا اور اس کا مقصد غیر قانونی شراب کی تجارت کو روکنا تھا، نہ کہ شراب کی فروخت کو عام کرنا ہے۔

سعودی حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کی مذہبی اور ثقافتی اقدار کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی قسم کی سماجی تبدیلیاں احتیاط سے اور عوامی مفاد میں کی جائیں گی۔

Related Posts