تیل تنصیبات پرداغے گئے میزائل ایرانی ساختہ تھے،سعودی وزیرخارجہ

تازہ ترین

تازہ ترین

تیل تنصیبات پرداغے گئے میزائل ایرانی ساختہ تھے،سعودی وزیرخارجہ
سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ آرامکو حملے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایران کو جواب دینے کے لیے تمام آپشنز پر غور کریں گے، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آرامکو تنصیبات پرحملے میں ایرانی ساختہ میزائل استعمال ہوئے۔

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر  کا کہنا ہے کہ  آرامکو حملے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایران کو جواب دینے کے لیے تمام آپشنز پر غور کریں گے،  ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آرامکو تنصیبات پرحملے میں ایرانی ساختہ میزائل استعمال ہوئے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت سے قبل بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ  یقین ہے تیل تنصیبات پر داغے گئے میزائل ایرانی ساختہ تھے، اقوام متحدہ تحقیقات کے لیے ماہرین فراہم کرے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے حزب اللہ اور حوثی ملیشیا کو بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ایرانی اقدامات اور رویے کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

سعودی وزیر نے کہا کہ ہم ایران کو جواب دینے کے لیے سفارتی محاذ پر کام کر رہے ہیں، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ایرانی رویے کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے حزب اللہ اور حوثی ملیشیا کو بیلسٹک میزائل فراہم کیے ہیں، خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ایرانی اقدامات اور رویے کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

عادل الجبیر نے مزید کہا حوثی ملیشیا نے مملکت پر سیکڑوں میزائل داغے اور یمن کو امداد پہنچانے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف حملوں کے ردعمل میں مناسب آپشن کا انتخاب کریں گے، تہران کا رویہ ناقابل برداشت ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ کمزور ہے لہٰذا اس میں ترمیم ضروری ہے، ایران پابندیاں ختم کرانے اور دوبارہ ہتھیار بنانے کی بھی کوشش کررہا ہے۔

خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے کیے گئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی  تاہم امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کی گئی تھی۔

Related Posts