اقوام عالم کو قیامت خیز تباہی سے بچالیا! دنیا بھر میں پاکستان کی دھوم

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کا دنیا بھر نے خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستانی ثالثی کے نتیجے میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولنے پر تیار ہو گیا ہے جبکہ امریکہ نے ایران پر حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو شدید نقصان پہنچانے کے ارادے کو اس وقت روکنے کے لیے تیار ہیں جب تک ایران جنگ بندی کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جائے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں انتباہ کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ انہوں نے ایرانی اور امریکی وفود کو جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں ملاقات کی دعوت دی ہے۔ وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔

عراق کی وزارت خارجہ نے بھی اس دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ اور دیرپا مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ان کا ملک امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان اس معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے، کیونکہ اس سے بات چیت کے ذریعے تنازع حل کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔

مصر کی وزارت خارجہ نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور اردن کی خودمختاری، علاقائی اتحاد اور سالمیت کا احترام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزارت نے ان ممالک کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مصر سمیت ان کی سلامتی کے درمیان گہرے تعلقات کا تذکرہ کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکریٹری جنرل امریکہ اور ایران کی جانب سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں عالمی توانائی مارکیٹس میں بھی مثبت ردعمل سامنے آیا۔ تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر گر گئیں جبکہ عالمی سٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کی یقین دہانی کرائی ہے جو دنیا کی تقریباً ایک پانچویں تیل کی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔

عالمی امور کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ جنگ بندی صرف عارضی ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات پر ہوگا۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو خطے میں طویل مدتی امن کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔

Related Posts