کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں اور ملازمین کو کورونا وائرس کے اثرات سے بچانے کے لئے 2958 کاروباروں کے لئے 238اعشاریہ 2 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔
کاروباری کمپنیوں کو کورونا کے اثرات سے بچانے کے لئے اپنی ری فنانسنگ اسکیم کے تحت ابھی تک ایک سال تک کے قرضوں کی 659اعشاریہ 5 بلین روپے کی ادائیگیوں کو مرکزی بینک موخر کرچکا ہے۔
مرکزی بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک نے ابھی تک تقریبا7 207اعشاریہ 5 ارب روپے کی تنظیم نو یا دوبارہ تشکیل نو کی اجازت دی ہے۔
دریں اثنا کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے اسپتالوں کے لئے اس فنانسنگ اسکیم کے تحت مرکزی بینک نے اب تک 39 اسپتالوں کے لئے 7اعشاریہ 77 ارب روپے کی فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے۔ تقریبا 45 اسپتالوں نے 13اعشاریہ 23 ارب روپے کی فنانسنگ کے لئے درخواست کی تھی۔
نئے منصوبوں کے قیام یا توسیع کے لئے ری فنانس اسکیم پر پیشرفت کے سلسلے میں مرکزی بینک نے 193اعشاریہ 25 ارب روپے کی رقم سے 243 منصوبوں کی منظوری دی جس کے لئے 437اعشاریہ 15 ارب روپے کی 425 منصوبوں کے لئے درخواستیں موصول ہوئیں۔
مزید برآں 20 مارچ سے 20 نومبر تک مرکزی بینک نے تجارتی بینکوں کو 1اعشاریہ 136 کھرب روپے کے تازہ کرنسی نوٹ جاری کیے تھے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کورونا کے اثرات سے نمٹنے اور کاروباری اداروں کو ملازمین کو اجرت اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے عارضی ری فائنانس اسکیم متعارف کروائی تھی۔