کراچی: بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زبیر موتی والا نے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرکمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک روپے کی قدر بہتر بنائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریحان حنیف کی سربراہی میں آل پاکستان موٹرسائیکل اسپیئر پارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ایس پی آئی ڈی اے) کے وفد کے کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر وائس چیئرمین بی ایم جی انجم نثار، صدر کے سی سی آئی محمد ادریس، سینئر نائب صدر عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، سرپرست اعلیٰ اے پی ایم ایس پی آئی ڈی اے فیصل خلیل، سابق صدور کے سی سی آئی مجید عزیز، ہارون اگر، عبداللہ ذکی، افتخار وہرہ، یونس محمد بشیر، شمیم احمد فرپو، شارق وہرہ و دیگر بھی موجود تھے۔
چیئرمین بی ایم جی نے نشاندہی کی کہ جس وقت رواں مالی سال 2021-22 کے وفاقی بجٹ کا اعلان کیا گیا تھا اس وقت امریکی ڈالر کی قدر 150 روپے کے آس پاس تھی اور تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس کا تخمینہ اس وقت کے ڈالر کی شرح کے مطابق لگایا گیا تھا چونکہ ڈالر اب 175 روپے کی سطح کو چھو کر اب بھی 170روپے سے اُوپر ہی ہے اس کا مطلب ہے کہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں بھی ڈالر کی قدر کے فرق کی مناسبت سے اضافہ ہوا ہے جو مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ جون2021 میں 155روپے کا ڈالر تھا اوراب ڈالر 175روپے کی سطح چھو کر اب بھی 170 سے ذائد ہی ہے جو 15روپے کے فرق کو ظاہر کرتا ہے اور اس فرق کا 40فیصد یعنی 6روپے ایف بی آر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں خاموشی سے اکھٹا کرتا چلا جارہا ہے جو سرا سر ناانصافی ہے کیونکہ اس سے درآمدشدہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور بے پناہ مہنگائی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہ مالی سال 2021-22 کے لیے 155 روپے کے ڈالر کے حساب سے ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف 5800 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا لیکن آج کل ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے جو اضافی رقم اکٹھی ہو رہی ہے اسے ایف بی آر کی کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ عوام اور تاجر برادری پر جرمانہ ہے جبکہ یہ ایف بی آر ہی ہے جو مہنگائی میں اضافے اور معیشت پر اضافی بوجھ ڈالنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج میں نئے سسٹم میں مسائل پر ایس ای سی پی کا نوٹس
پٹرولیم میں سرمایہ کاری کیلئے کاروبار کو تحفظ فراہم کرے، ناصر حیات مگوں
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








