سپریم کورٹ نے 27 جنوری کو 26 ویں آئینی ترمیم کیس کی سماعت کے لیے خصوصی انتظامات کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ سماعت کورٹ روم نمبر 2 میں منعقد ہوگی، تمام شرکاء کی حفاظت کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔
کورٹ روم میں محدود گنجائش کی وجہ سے صرف وکلاء، صحافیوں اور دیگر متعلقہ افراد کو خصوصی پاسز جاری کیے جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ “صرف وہ افراد داخل ہونگے جنہیں پاس ملیں گے۔
پاس کے بغیر آنے والوں کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں جن میں کورٹ روم نمبر 6 اور 7 میں آڈیو سہولیات شامل ہیں۔ مزید برآں، کورٹ روم کے اندر موبائل فون کے استعمال پر سخت پابندی ہوگی۔
آئینی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کریں گے جبکہ بینچ میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہوں گے۔ یہ بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا جو 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرتی ہیں اور اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتی ہیں۔
درخواست گزاروں نے آئینی ترامیم کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ ایسے اراکین اسمبلی کے ووٹ پر انحصار کرنا جن کے انتخابی معاملات زیر سماعت ہوں، آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت غیر آئینی ہے۔
واضح رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔ چیف جسٹس کے انتخاب کے لیے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تین سینئر ججوں کے پینل میں سے چیف جسٹس کا انتخاب کرے گی۔
ججز کی تقرری کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے، جس کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے۔ اس کمیشن میں سپریم کورٹ کے تین سینئر جج، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے دو دو اراکین، وفاقی وزیر قانون و انصاف، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کا ایک نامزد رکن شامل ہوگا، جس کے پاس کم از کم پندرہ سال کا سپریم کورٹ میں وکالت کا تجربہ ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








