سپریم کورٹ کا مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم ریسٹورنٹس مکمل ختم کرنے کا حکم

تازہ ترین

تازہ ترین

سپریم کورٹ
(فوٹو: آج ٹی وی)

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم ریسٹورنٹس مکمل ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ نیشنل پارک میں قائم ریسٹونٹس 3 ماہ میں مکمل ختم کیے جائیں۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ نیشنل پارک سے باہر کہیں بھی لیز مقصود ہو تو متاثرہ ریسٹورنٹس کو ترجیح دی جائے۔

اپنے فیصلے کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سپریم کورٹ نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے مونال گروپ کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے 112 جنوری 2022 کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کو انگریزی سکھانی پڑے گی؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ سی ڈی اے سے مونال کے ساتھ ساتھ دیگر ریسٹورنٹس کی تفصیلات طلب کی تھیں؟سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو آگہی دی کہ ہم نے مارگلہ نیشنل پارک میں تمام تعمیرات کی رپورٹ دی ہے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ سی ڈی اے کی رپورٹ میں اسپورٹس کلب پاک چائنہ سینٹر بھی شامل ہے؟ سی ڈی اے نے آرٹ کونسل نیشنل مانومنٹ کا نام بھی شامل کردیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا نیشنل مانومنٹ سپورٹس کمپلیکس کو گرانے کا حکم دے دیں؟

ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا یہ سی ڈی اے کی ایمانداری ہے؟ کیا سپریم کورٹ کی عمارت بھی نیشنل پارک میں شامل ہے؟دنیا جانتی ہے کہ مونال کے ساتھ مزید کتنے ریسٹورنٹس ہیں۔ اگر نہیں معلوم تو سی ڈی اے کو نہیں معلوم۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے مونال سمیت نیشنل پارک میں تعمیر کردہ تمام ریسٹورنٹس بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے 3 ماہ کا وقت دیا کہ تمام ریسٹورنٹس مکمل ختم کیے جائیں۔ نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

Related Posts