زمان پارک کے تمام راستے سیل، پولیس ایکشن کے خدشات

تازہ ترین

تازہ ترین

زمان پارک میں پولیس آپریشن کے خدشات بڑھ گئے جبکہ پنجاب پولیس نے زمان پارک جانے والے تمام راستے ہر طرح کی ٹریفک کے لئے بند کر دیے۔

پولیس کی جانب سے دھرم پورہ پل، علامہ اقبال روڈ اور ریلوے پھاٹک بھی بند کرکے پولیس اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا۔ اس کے علاوہ پولیس کی بھاری نفری زمان پارک اور گردونواح میں تعینات کردی گئی۔

دوسری جانب عمران خان نے اپنی گرفتاری اور زمان پارک میں آپریشن کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ میں اگلی گرفتاری سے قبل شاید یہ میری آخری ٹویٹ ہو کیونکہ پولیس میری رہائشگاہ کا محاصرہ کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

ریڈ کراس کے تحت علمائے کرام کیلئے دو روزہ تربیتی پروگرام

ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ ملک کی سب سے بڑی پارٹی اور فوج کو لڑوانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں یہ کامیاب ہو رہے ہیں کیونکہ یہ لوگ تجربہ کار سیاست دان ہیں، البتہ میں نے دنیا میں اپنی فوج کا دفاع کیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ میں واضح کردوں میں اپنی فوج پر تےنقید اصلاح کرنے کے لئے کرتا ہوں، اگر میں آرمی کو کمزور کروں گا تو میں خود کو کمزور کروں گا، کون آپنی فوج سے لڑنا چاہتا ہے۔

اپنے بیان میں عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم کامیابی سے وہ کام رہے ہیں جو مشرق پاکستان میں ہوا تھا، وہ ملکی تاریخ کا شفاف ترین الیکشن تھا، ایک شخص نے اقدارا کی خاطر سب سے بڑی پارٹی سے فوج کو لڑوا دیا جس کی وجہ سے ملک ٹوٹ گیا، آج بھی وہی ہو رہا ہے۔

آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ بغیر تحقیقات کیئے تحریک انصاف کو دہشت گرد قرار دیکر پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی، خواتین سمیت ساڑھے 7 ہزار کارکنوں کو پکڑ لیا ہے، ملک میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 27 سال ہے، مجھ سمیت کسی پارٹی لیڈر نے توڑ پھوڑ کا کبھی بیان نہیں دیا، 10 مئی کو ہم نے کچھ نہیں کیا، 25 مئی کو پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان پر تشدد کیا گیا، میں نے انتشار کی وجہ سے دھرنا منسوخ کردیا تھا۔

اپنی گرفتاری پر پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ میں 9 مئی کو کہا تھا کہ وارنٹ آئے تو میں گرفتاری دینے کے لئے تیار ہوں، آرام سے پکڑ لیتے، میں نے کہا تھا اگر اس طرح پکڑیں گے تو ردعمل آنا تھا، مجھے ڈنڈا مارا گیا اور دہشت گردوں کی طرح پکڑا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سازش کی گئی ہے جس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں، اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے ہم عدالت جائیں گے، جناح ہاؤس میں توڑ پھوڑ اور چلاؤ گیراؤ پر سب سے پہلے آئی جی پنجاب کو بلایا جائے۔

Related Posts