پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل مکمل ہوچکا ہے جہاں 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے (تقریباً 482 ملین امریکی ڈالر) میں عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں ایک کنسورشیم کو فروخت کیے گئے۔ یہ ٹرانزیکشن 23 دسمبر 2025 کو ایک شفاف نیلامی کے ذریعے ہوئی جس میں تین بولیاں موصول ہوئیں اور ابتدائی بولی 115 ارب روپے سے شروع ہوئی۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم پی آئی اے کے بوجھل قرضوں (جو 800 ارب روپے سے زیادہ تھے) کو کم کرنے اور ادارے کو منافع بخش بنانے کے لیے اٹھایا گیا لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اسے سستے داموں بیچنے کا الزام لگایا ہے۔ خاص طور پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کا ایک جہاز ہی 330 ملین ڈالر کا ہے جبکہ پورا ادارہ 135 ارب روپے میں بیچا گیا۔آئیے اس کی اصل صورتحال اور حقائق پر نظر ڈالتے ہیں جن میں سے کچھ عام عوام کو معلوم نہیں ہیں۔
نجکاری میں کیا شامل کیا گیا؟
پی آئی اے کی نجکاری میں بنیادی طور پر ادارے کا کور بزنس نجی شعبے کو منتقل کیا گیا جس میں شامل ہے
فلائنگ آپریشنز یعنی 31 طیاروں کا فلیٹ (بشمول 12 بوئنگ 777، 12 ایئربس A320 اور 7 ATR طیارے)
بین الاقوامی اور ملکی روٹس، ائیرپورٹ سلاٹس، برانڈ نام اور کمرشل ایوی ایشن کی سرگرمیاں۔
ادارے کی ملازمتوں اور آپریشنل اثاثوں کا ایک حصہ
یہ نجکاری آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کی گئی جس کا مقصد ادارے کو قرضوں سے آزاد کر کے نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا۔ حکومت نے نجکاری سے پہلے پی آئی اے کے قرضے (جو 785 ارب روپے تھے) کو الگ کرکے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کیا تاکہ خریدار کو صرف آپریشنل بزنس ملے۔
کون سے اثاثے نجکاری سے الگ رکھے گئے؟
حکومت نے نجکاری سے پہلے پی آئی اے کے کئی قیمتی غیر آپریشنل اثاثے الگ کر دیئے جو عام عوام کو کم معلوم ہیں۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ سرمایہ کار صرف ایئرلائن کے آپریشنز خریدنا چاہتے تھے نہ کہ قومی ایئر لاین کی جائیدادیں جس میں مندرجہ ذیل شامل ہیں۔
روزویلٹ ہوٹل نیویارک؛
یہ تاریخی ہوٹل (جو 1924 میں بنا) اب بھی حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔ اس کی تخمینی مالیت 1 بلین ڈالر ہے اور حکومت اسے الگ سے لیز پر دینے یا نجکاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ ہوٹل 1940 کی دہائی سے پی آئی اے کی ملکیت تھا لیکن نجکاری میں شامل نہیں کیا گیا۔
اسکرائب ہوٹل (سوفیٹل پیرس اسکرائب اوپیرا)؛
یہ ہوٹل بھی نجکاری کے عمل سے الگ رکھا گیا جس کی مالیت لاکھوں ڈالر ہے جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں ہوٹلز اور پراپرٹیز، پی آئی اے کی کئی عمارتیں اور زمینیں (جیسے کراچی میں 100 ایکڑ سے زیادہ زمین) ایک سرکاری ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کی گئیں۔
دیگر اثاثے؛ غیر استعمال شدہ عمارتیں، گاڑیاں اور دیگر غیر آپریشنل پراپرٹیز، جن کی مجموعی مالیت اربوں روپے ہے۔
یہ اثاثے الگ کرنے کی وجوہات؛ پی آئی اے کے قرضے بہت زیادہ تھے (جو خریدار پر بوجھ بنتے)، سرمایہ کاروں کی دلچسپی صرف ایئرلائن میں تھی اور قیمتی پراپرٹیز بیچنے پر سیاسی تنقید کا خدشہ تھا۔ نتیجتاً ادارہ کلیئر بیچا گیا جس سے اس کی ویلیو کم ہو گئی۔
سیاسی تنقید اور دعوے: ایک جہاز 330 ملین ڈالر کا؟
حکومتی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف نے نجکاری کو لوٹ سیل قرار دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پی آئی اے کی اصل ویلیو 700-800 ملین ڈالر سے 1 بلین ڈالر تک ہے لیکن یہ 482 ملین ڈالر میں بیچا گیا۔ خاص طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کا ایک بوئنگ 777 طیارہ ہی 330 ملین ڈالر کا ہے جبکہ پورا ادارہ 135 ارب روپے میں بیچ دیا گیا۔ یہ دعویٰ یوٹیوب اور میڈیا پر گردش کر رہا ہے جہاں ناقدین کہتے ہیں کہ ادارہ سستے داموں بیچا گیا اور قومی اثاثے لوٹے جا رہے ہیں۔
حقائق کی جانچ؛
ایک جہاز کی قیمت؛ بوئنگ 777-300ER کی نئی لسٹ پرائس واقعی 330-340 ملین ڈالر ہے (جیسے 2014-2015 کی قیمتوں میں)۔ پی آئی اے نے 2002 میں 8 بوئنگ 777 $1.5 بلین میں آرڈر کیے تھے، اور 2012 میں 5 بوئنگ 777-300ER بھی $1.5 بلین میں۔ لیکن پی آئی اے کے طیارے 10-20 سال پرانے ہیں، جن کی مارکیٹ ویلیو (ری سیل ویلیو) 50-100 ملین ڈالر فی طیارہ ہے، نہ کہ 330 ملین۔ استعمال شدہ بوئنگ 777 کی قیمت عمر، حالت اور مارکیٹ پر منحصر ہے، جو نئی قیمت کا 20-30 فیصد ہوتی ہے۔
فلیٹ کی مجموعی ویلیو؛ پی آئی اے کے 31 طیاروں کی تخمینی مارکیٹ ویلیو 1-1.5 بلین ڈالر ہے (اگر نئے ہوتے)، لیکن پرانے ہونے کی وجہ سے 300-500 ملین ڈالر تک ہے۔ Reddit پر ایک تبصرہ میں کہا گیا کہ 4 نئی بوئنگ 737 کی قیمت 486 ملین ڈالر ہے، جو پی آئی اے کی سیل پرائس سے موازنہ کر کے undervaluation کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
مجموعی ویلیو؛ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی ویلیو (روٹس، برانڈ اور اثاثوں سمیت) 700-800 ملین ڈالر ہے جو ممکنہ طور پر 1 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے اگر پراپرٹیز شامل کی جاتیں لیکن قرضے اور خسارے الگ کرنے سے سیل پرائس کم ہوئی۔اپوزیشن کا دعویٰ بے بنیاد ہے کیونکہ یہ نئی قیمتوں پر مبنی ہے نہ کہ حقیقی مارکیٹ ویلیو پر۔
روزویلٹ ہوٹل کا مستقبل کیا؟
روزویلٹ ہوٹل نجکاری میں شامل نہیں کیا گیا اور اب بھی حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔ حکومت اسے 99 سال کی لیز پر دینے یا پارٹنرشپ کے ذریعے استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس سے سالانہ 50-100 ملین ڈالر کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ یہ ہوٹل 2019 سے بند ہے اور اس کی بحالی پر 220 ملین ڈالر لاگت آ سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








