راولپنڈی کے علاقے کلر سیداں میں پولیس نے ایک نجی مدرسے کے استاد کو اس وقت گرفتار کر لیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں استاد کو ایک کمسن طالبعلم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طالبعلم اپنے قرآن پاک کا سبق یاد کرنے میں ناکام رہا۔
پولیس کے مطابق ویڈیو کی تصدیق کے بعد کلر سیداں تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ پولیس کانسٹیبل کامران یعقوب کی مدعیت میں درج ہوا، جنہوں نے بیان دیا کہ وہ دورانِ ڈیوٹی سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد اس واقعے کی اطلاع متعلقہ حکام کو دی۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک استاد کمسن بچے کو شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ کلر سیداں کے ایک نجی اسکول کے حفظ القرآن پروگرام میں پیش آیا، جہاں متاثرہ بچہ ارمان آصف زیرِ تعلیم تھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق استاد قاری آکاش نے بچے کو سبق صحیح طور پر یاد نہ کرنے پر وحشیانہ انداز میں مارا پیٹا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ پنجاب میں تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا دینا قابلِ سزا جرم ہے، اور استاد محمد آکاش نے اس قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بچے پر تشدد کیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کے کئی تعلیمی اداروں میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور جسمانی تشدد کے واقعات بدستور جاری ہیں، حالانکہ حکومت کی جانب سے اس کی ممانعت کے واضح احکامات موجود ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








