سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے انسداد ریپ بل 2021 کی منظوری دے دی

تازہ ترین

تازہ ترین

Govt passed the SBP Amendment Bill in Senate

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے انسداد ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹریل) بل 2021 کی منظوری دے دی، جس کے تحت جنسی زیادتی کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سید علی ظفر ہیں جبکہ دیگر اراکین میں اعظم نذیر تارڑ، فاروق حامد نائیک، کامران مرتضیٰ، میاں رضا ربانی، محمد اعظم خان سواتی، محمد ہمایوں مہمند، مصدق مسعود ملک، مصطفیٰ نواز کھوکھر، ثمینہ ممتاز زہری، سید مظفر حسین شاہ، سید شبلی فراز اور ولید اقبال شامل ہیں۔

ذیلی کمیٹی کا اجلاس جو بیرسٹر علی ظفر کی زیر صدارت جاری تھا، اسی دوران اپوزیشن کے اراکین نے خصوصی عدالتوں کی تشکیل کی اجازت دینے والی ایک شق پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم اجلاس کے دوران اکثریت ووٹوں سے ان تحفظات کو ردکر دیا گیا۔

اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی ملائیکا بخاری نے پینل کو بل میں ریپ کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے تجویز سے آگاہ کیا۔پینل کو یہ بھی بتایا گیا کہ عدالتوں میں ریٹائرڈ ججوں کے بجائے حاضر سروس جج ہوں گے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسی ہی عدالتیں قائم کی گئی تھیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔تقریباً اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ عدالتی نظام پر جمود طاری ہے اور اور بچوں اور خواتین کے لیے خصوصی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء رضا ربانی نے بھی اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ریپ کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کی تشکیل ضروری نہیں ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم قوانین کے خلاف نہیں ہیں بلکہ خصوصی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔

اجلاس اختتام پذیر ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ذیلی کمیٹی نے اس بل کی منظوری دی ہے جس میں کنوارے پن کے ٹیسٹ کی شرط ختم کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملزم مجرم ثابت ہوا تو اسے سزائے موت، عمر قید یا کیمیائی طریقے سے نامرد کیے جانے کے عمل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کی جولائی اور اگست میں 850ارب اکٹھا کرنے پر ایف بی آر کی تعریف

سینیٹر نے کہا کہ اگر تفتیشی اہلکار غفلت کا مرتکب قرار پائے گئے یا کسی بھی حیثیت میں مقدمے کی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تو انہیں سزا بھی ہو سکتی ہے۔

Related Posts