روس نے بھارتی وزارتِ خارجہ کی مداخلت کے بعد اپنی فوج میں معاون اسٹاف کے طور پر کام کرنے والے 20بھارتی شہریوں کو جلد چھوڑنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ نوکریوں کی آڑ میں بھارتی جوانوں کو روس یوکرین جنگ میں بھیجنے کا انکشاف بھی سامنے آگیا۔
بھارتی تحقیقاتی ادارے (سی بی آئی) نے ایک بڑے نیٹ ورک کا پتہ چلانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی نوجوانوں کو نوکریوں کا جھانسا دے کر روس یوکرین جنگ میں بھیجنے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے جس کیلئے 7 شہروں میں 10سے زائد مقامات پر تفتیش جاری ہے۔
سی بی آئی نے دہلی، ممبئی، امبالا، چندی گڑھ اور چنئی سمیت دیگر شہروں میں چھاپہ مار کارروائی شروع کرتے ہوئے مختلف ویزا کنسلٹنسی کمپنیوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے۔ 50لاکھ بھارتی روپے، نامناسب دستاویزات، موبائل، لیپ ٹاپ اور دیگر آلات قبضے میں لے لیے گئے۔
اس حوالے سے بھارتی میڈیا (نیوز18) کا کہنا ہے کہ کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور متاثرین کے بیرونِ ملک بھیجے جانے کے 35 معاملات منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ جرم میں آر اے ایس اوور سیز فاؤنڈیشن اور او ایس ڈی بروس ٹریولز سمیت دیگر کمپنیاں ملوث ہیں۔
مسلمان بھارتی شہری کا قتل
دوسری جانب روس کی یوکرین مخالف جنگ میں شامل ایک بھارتی مسلمان کو قتل کردیا گیا اور آج سے 4روز قبل ماسکو میں بھارتی سفارت خانے نے ٹوئٹر پوسٹ کے ذریعے بھارتی شہر حیدر آباد کے رہائشی محمد اسفان کے انتقال کی تصدیق کردی تاہم اس کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








