سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو جمعہ کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے ریمانڈ مسترد ہونے کے بعد ہفتہ کو 10000 روپے کے ضمانتی بانڈ کے عوض ضمانت مل گئی۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب مطیع اللہ جان اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز جسمانی ریمانڈ کا حکم معطل کر دیا تھا۔
ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، جس میں مطیع اللہ جان کی دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل پر توجہ دی گئی۔ مطیع اللہ جان کی قانونی ٹیم ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھا نے گرفتاری کو چیلنج کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر راشد علی آزاد نے ایف آئی آر میں تضادات کو اجاگر کیا، کیس کا جائزہ لینے کے بعدہائیکورٹ نے فیصلہ کیا کہ مطیع اللہ جان کو جسمانی ریمانڈ کے بجائے عدالتی ریمانڈ کے تحت سمجھا جانا چاہیے۔
مطیع اللہ جان کو ایک متنازعہ واقعے کے بعد اسلام آباد میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مطیع اللہ جان کی گاڑی پولیس ناکے پر رکنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا واقعہ پیش آیا۔
ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مطیع اللہ جان کے پاس کرسٹل میتھ (آئس) موجود تھی، حالانکہ اس کا دفاع ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








