آرمینیا نے دبئی ایئرشو 2025 میں پیش آنے والے مہلک حادثے کے بعد بھارت کے تیجس لڑاکا طیارے کی خریداری کے لیے جاری 1.2 ارب ڈالر کے مذاکرات کو معطل کر دیا ہے جو بھارت کی دفاعی برآمدات کی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
دبئی ایئرشو میں پیش آنے والا یہ حادثہ، جس میں بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ونگ کمانڈر نمنش سیال جاں بحق ہوئے۔ تیجس کی عملی پختگی اور اعتماد پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب بھارت اس طیارے کو کم لاگت والے ملٹی رول پلیٹ فارم کے طور پر عالمی خریداروں کو پیش کر رہا تھا۔
معاہدے کی معطلی کے تجارتی اثرات خاصے سنگین ہیں کیونکہ آرمینیا تقریباً 20 تیجس مارک-1A طیاروں کی خرید پر غور کر رہا تھا جن کی مالیت تقریباً 1.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ بھارت کی سب سے بڑی ممکنہ لڑاکا طیارہ برآمدات میں سے ایک ہوتا تاہم یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دبئی حادثے کی ویڈیو فوٹیج سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی جس نے آرمینیائی دفاعی حکام کو طیارے کی صلاحیت کو ازسرِنو جانچنے پر مجبور کردیا۔
تیجس ایل سی اے پروگرام پر عالمی توجہ میں اضافہ
ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کا تیار کردہ تیجس بھارت کا سب سے بڑا مقامی لڑاکا طیارہ پروگرام ہے جو 1980 کی دہائی میں بھارتی فضائیہ کے پرانے MiG-21 بیڑے کی جگہ لینے اور ملکی ایرو اسپیس خود انحصاری کو مضبوط کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ چار دہائیوں کی ترقی میں اسے تکنیکی چیلنجز، لاگت میں اضافے، ڈیزائن تبدیلیوں اور پیچیدہ انضمام مسائل کا سامنا رہا، مگر یہ اب بھی نئی دہلی کے میک اِن انڈیا اور آتم نربھر بھارت دفاعی ویژن کا مرکزی ستون ہے۔
تیجس LCA ایک سنگل انجن، ڈیلٹا ونگ، ہلکا ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو فضائی جنگ، زمین پر اہداف پر حملے، سمندری مشنز اور ریکوناسنس کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ اسے بین الاقوامی سطح پر 4.5 نسل کے طیارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو نسبتاً کم قیمت میں جدید خصوصیات فراہم کرتا ہے۔ اس کے بنیادی اجزا میں ابتدائی اسرائیلی ساخت کا Elta EL/M-2032 ریڈار، جدید گلاس کاک پٹ، ڈیجیٹل فلائی بائی وائر سسٹم اور مختلف ہتھیاروں کے ساتھ مطابقت شامل ہے جن میں آسٹرا BVR میزائل اور آنے والے برہموس–این جی سپرسونک کروز میزائل شامل ہیں۔
مارک-1A ورژن میں بھارتی ساختہ اتّم AESA ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سوٹس، بہتر مینٹیننس خصوصیات، ڈیجیٹل RWR اور ساختی مضبوطی شامل ہیں۔ یہ اپ گریڈز وزن کی تقسیم، نسبتاً کم thrust-to-weight ریشو اور طویل مدتی مینٹیننس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو دور کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ تاہم ان بہتریوں کے باوجود، تیجس پر درآمدی پرزہ جات—خصوصاً امریکی GE-F404 انجن—پر انحصار کی وجہ سے توجہ مرکوز رہی ہے، جس کی سپلائی میں تاخیر سے HAL کی پیداوار اور IAF کے اسکواڈرنز کی تشکیل متاثر ہوتی ہے۔
بھارت نے 2021 میں 83 مارک-1A طیاروں کا تقریباً 5.8 ارب ڈالر کا آرڈر دیا تاکہ پرانے MiG طیاروں کی ریٹائرمنٹ کے باعث کم ہوتی اسکواڈرن طاقت کو بحال کیا جاسکے۔ بھارت نے تیجس کو جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں جارحانہ طور پر فروغ دیا ہے اس کی 40–50 ملین ڈالر یونٹ لاگت کو نمایاں کرتے ہوئے جو F-16 بلاک 70/72 یا سویڈش گریپن کے مقابلے میں کہیں کم ہے تاہم ملائیشیا، ارجنٹینا، مصر، بوٹسوانا اور مشرقِ وسطیٰ میں کوششوں کے باوجود تیجس ابھی تک کوئی بڑا تصدیق شدہ برآمدی معاہدہ حاصل نہیں کر سکا۔
دبئی ایئرشو حادثہ اور بڑھتے ہوئے آپریشنل سوالات
دنیا کی بڑی ایرو اسپیس نمائشوں میں شمار ہونے والے دبئی ایئرشو 2025 میں تیجس کو اپنی manoeuvrability اور ایروبٹک صلاحیت دکھانے کا بھرپور موقع دیا گیا تھا۔ 21 نومبر کو ایک ایروبٹک مظاہرے کے دوران، ونگ کمانڈر نمنش سیال کی زیرِ پرواز تیجس ایک نیگیٹو-G manoeuvre میں داخل ہوا جو مبینہ طور پر 500 فٹ سے کم بلندی پر کیا گیا تھا۔
عینی شاہدین اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق طیارہ اچانک aerodynamic کنٹرول کھو بیٹھا اور ناک نیچے کیے ناقابلِ واپسی پوزیشن میں چلا گیا۔ پائلٹ کی بھرپور کوششوں کے باوجود طیارہ زمین سے زور سے ٹکرایا اور آگ کے شعلوں میں گھر گیا۔ 34 سالہ تجربہ کار پائلٹ سیال موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ یہ تیجس پروگرام کا پہلا مہلک حادثہ اور 2021 کے ایک غیر مہلک ایجکشن کے بعد دوسرا ریکارڈ شدہ واقعہ ہے۔
ابتدائی تجزیوں کے مطابق ممکنہ وجوہات میں فلائی بائی وائر سسٹم کی خرابی، کنٹرول سرفیس malfunction، ڈیلٹا ونگ طیاروں کی کم رفتار والی stall خصوصیات، یا شدید نیگیٹو-G کے دوران پائلٹ کی disorientation شامل ہیں۔ IAF نے مکمل انکوائری شروع کر دی ہے اور FDR اور CVR کا جائزہ لے رہی ہے۔
آرمینیا کا فیصلہ اور خطے میں عسکری توازن
دبئی حادثے کے فوراً بعد آرمینیا کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حادثے کی ویڈیو میں طیارے کے کم بلندی پر کیے گئے manoeuvre سے عدم بحالی نے آرمینیائی حکام میں تشویش پیدا کی۔ دونوں ممالک کے درمیان گفتگو 2025 کے آغاز سے جاری تھی جس میں تقریباً 20 مارک-1A طیاروں کی خرید اور ان کے ساتھ آرمینیا کے لیے خاص الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز لگانے پر بات ہو رہی تھی تاکہ انہیں counter-UAV اور اینٹی ڈرون آپریشنز کے لیے زیادہ موزوں بنایا جا سکے۔
معطلی کے بعد آرمینیا اب روسی Su-30SM، فرانسیسی Mirage 2000 یا نئی نسل کے Rafale جیسے متبادل طیاروں پر غور کر رہا ہے جو Bayraktar TB2 اور Akinci جیسے علاقائی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال بھارت کی دفاعی برآمدات کی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہے جو تیجس کو عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد برآمدی پلیٹ فارم بنانے کی کوششیں کر رہا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








