غزہ کی شہری دفاع ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعہ کی رات اسرائیلی فضائی حملے میں ایک خاندان کے 10 افراد شہید ہو گئے، جن میں سات بچے بھی شامل ہیں، یہ واقعہ غزہ کی شمالی علاقے میں پیش آیا۔
غزہ پٹی میں جاری تشدد نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے 14 ماہ گزرنے کے باوجود اس ساحلی علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ بین الاقوامی ثالثی کوششیں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے جاری ہیں۔
شہیدوں کی تعداد کے بارے میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے میڈیا کو بتایا، “یہاں 10 شہداء ہیں جنہیں جبالیہ النزلہ میں ان کے گھر پر فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
تمام شہید ایک ہی خاندان کے ہیں، جن میں 7 بچے بھی شامل ہیں، سب سے بڑے کی عمر چھ سال ہے۔” بسال نے مزید کہا کہ اس حملے میں 15 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے اکتوبر کے آغاز میں غزہ کے شمال میں ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جس کا مقصد حماس کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا بتایا گیا۔
کیا غزہ، شام اور لبنان میں حملے گریٹر اسرائیل کے قیام کی طرف اشارہ؟ مسلمانوں میں تشویش لہر
جاری تشدد کے درمیان امریکا، مصر، اور قطر جنگ کو ختم کرنے اور غزہ میں اب بھی موجود متعدد یرغمالیوں کی رہائی کے لیے نئی مذاکرات میں مصروف ہیں۔منگل کے روز امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کے امکانات کے بارے میں “احتیاطی طور پر خوش امید” کا اظہار کیا تھا۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ایک غیر معمولی حملے سے شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں 1208 افراد کی موت ہوئی، جن میں سے زیادہ تر شہری تھے۔
حماس کے جنگجوؤں نے 251 یرغمالی بھی لئے، جن میں سے 96 غزہ میں ہیں، جن میں 34 افراد ایسے ہیں جن کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں تقریباً 45206 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








